مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.41 ڈالر یا 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 97.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بھڑک اٹھنے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، یوں گزشتہ سیشن میں شروع ہونے والا تیزی کا رجحان برقرار رہا۔

گرین وچ وقت کے مطابق 1315 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.41 ڈالر یا 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 97.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.39 ڈالر یا 1.5 فیصد بڑھ کر 95.15 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں بالترتیب 27 مئی اور 22 مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

ایران نے کویت اور بحرین سمیت خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، جن سے کویتی حکام کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی افواج نے ایران کے جزیرہ قشم پر حملے کیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا کو کوئی جواب نہیں دیا اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا عمل بھی اس وقت تک معطل کر دیا گیا ہے جب تک لبنان کے حوالے سے ایران کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور یہ کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔

عالمی کموڈیٹی ٹریڈر ویٹول میں بحرین کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹام بیکر نے منگل کے روز ایک توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود عالمی تیل منڈی اس تنازع سے جڑے بعض خطرات کا مکمل اندازہ قیمتوں میں شامل نہیں کر رہی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی اس تنبیہ نے بھی تقویت دی کہ اگر موجودہ رفتار سے ذخائر میں کمی جاری رہی تو موسمِ گرما میں طلب کے عروج سے قبل عالمی تیل ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ایل ایس ای جی میں تیل کے سینئر تجزیہ کار امرل جمیل نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آئی ای اے کی جانب سے عالمی ذخائر کی خطرناک حد تک کمی کی وارننگ، دونوں عوامل عالمی معیار کے تیل کی قیمتوں میں خطراتی پریمیم کو مزید بڑھا رہے ہیں۔‘‘

دریں اثنا، مارکیٹ ذرائع نے امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے بھی کم ہوئے۔

ذرائع کے مطابق 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔