مارکٹس

امریکہ اور ایران میں حملوں کا تبادلہ، اسرائیلی فوج لبنان میں داخل، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا

  • عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 3 فیصد بڑھ گئی، خام تیل 2.68 ڈالر اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا
شائع اپ ڈیٹ

عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تیزی ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کے تبادلے اور حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی جانب سے اپنی فوج کو لبنان کے اندر مزید آگے بڑھنے کے احکامات کے بعد سامنے آئی ہے۔

گرین وچ ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق 11:21 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 2.68 ڈالر یا 3 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر ہو رہے تھے۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 3.03 ڈالر یا 3.5 فیصد بڑھ کر 90.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ مئی کے پورے مہینے کے دوران برینٹ کی قیمت میں تقریباً 19 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 17 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ مارچ 2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث توانائی کی طلب میں آنے والی شدید کمی کے بعد سے دونوں برانڈز کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ تھی۔

جمعہ کے روز واشنگٹن میں اسرائیل-لبنان امن مذاکرات کی میزبانی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والی اس تازہ لڑائی نے ان امیدوں کو مدہم کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران جلد ہی اپنی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی میں توسیع کے لیے مجوزہ معاہدے پر جلد فیصلہ کریں گے۔ کسی بھی ایسے معاہدے کے لیے اسرائیل کا کردار کلیدی ہو گا، جبکہ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اس میں حزب اللہ اور لبنان کو لازمی شامل کیا جائے۔ ایک امریکی اہلکار نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکہ نے اس حوالے سے ”مرحلہ وار کشیدگی میں کمی“ کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے ’آبنائے ہرمز‘ میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ سیکامور کا کہنا تھا کہ ”اگر کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے، تب بھی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کا سیلاب نہیں آنے والا۔“ دوسری جانب ایک اخباری رپورٹر نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے کے اوائل میں اس آبنائے میں مزید بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل میں تاخیر کی وجہ عدم اعتماد، واشنگٹن کا متضاد مؤقف اور لبنان پر اسرائیل کے جاری حملے ہیں۔

مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات چین سے آنے والے ان معاشی اعداد و شمار پر بھی حاوی ہو گئے جن کے مطابق وہاں فیکٹریوں کی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں۔ اس رپورٹ نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے کہ دنیا کی یہ دوسری بڑی معیشت اپنی رفتار کھو رہی ہے۔

رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ سعودی عرب جولائی میں ایشیا کے لیے مسلسل دوسرے مہینے اپنے خام تیل کی سرکاری فروخت کی قیمتوں میں کمی کرے گا۔

سرمایہ کاری بینک ’گولڈمین سیکس‘ نے کہا کہ چین اور یورپ میں تیل کی کمزور طلب چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کروڈ کے 90 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی کے 83 ڈالر فی بیرل کے متبادل تخمینوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کی ممکنہ معطلی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔