دنیا

دفاعی اخراجات پر امریکا کی یورپ پر تنقید

  • واشنگٹن نے مئی میں جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ ظاہر کیا تھا جبکہ ٹرمپ نیٹو سے امریکا کے انخلا کی دھمکی بھی دے چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ نے رواں ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں اپنے نیٹو اتحادیوں پر ایک بار پھر کڑی تنقید کی ہے، تاہم مغربی یورپی حکام نے اصرار کیا ہے کہ یہ اتحاد اب بھی مضبوط اور مستحکم ہے۔

شنگریلا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں اضافے اور واشنگٹن کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اختیار کرنے پر ایشیائی شراکت داروں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمارے مفادات یکساں ہوتے ہیں تو ہم کامل عزم کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور جب ہمارے مفادات الگ ہوتے ہیں تو ہم کسی ڈرامے بازی یا اخلاقی بھاشن کے بغیر عملی طور پر خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ میرے خیال میں مغربی یورپ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور نیٹو کو کچھ بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بارہا یورپی حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی افواج پر کم سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور امریکی تحفظ پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یورپ اور ایشیائی اتحادیوں دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک بڑھائیں۔

واشنگٹن نے مئی میں جرمنی سے اپنے 5,000 فوجی نکالنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا جبکہ ٹرمپ نیٹو سے ہی علیحدگی کی دھمکی دے چکے ہیں۔

نیٹو کے ایک سینئر اہلکار نے امریکی فوجیوں کی واپسی کے معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس سے اتحاد یکجہتی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نیٹو ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل جیوسیپ کاوو ڈریگون نے کہا کہ ایک پختہ اتحاد میں، اگر ایک اتحادی جو اس معاملے میں سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر ہے کو اپنی کچھ طاقت کسی اور جگہ منتقل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے اور دوسروں کو اس کی جگہ لینے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

جرمنی کی وفاقی وزارتِ دفاع کے اسٹیٹ سیکرٹری نیلز ہلمر نے کہا کہ برلن مستقبل میں امریکی تعیناتیوں سے قطع نظر فوجی سرمایہ کاری کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یقین سے جانتے ہیں کہ اس شعبے میں تبدیلیاں آنے والی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم سیکیورٹی کو اپنے ہاتھوں میں لینے جا رہے ہیں۔

یورپی وزراء نے اس فورم کا استعمال ایشیائی شراکت داروں کو یہ یقین دلانے کے لیے بھی کیا کہ نیٹو اپنے قریبی پڑوس سے باہر بھی ایک معتبر اتحاد ہے۔ فرانسیسی وزیرِ دفاع کیتھرین واوٹرین نے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں ہماری ساکھ کا انحصار یورپ میں ہماری مضبوطی اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کے دفاع پر بھی ہے۔

دیگر یورپی وزرائے دفاع نے دلیل دی کہ سیکیورٹی کے میدان اب تیزی سے ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔ ناروے کے وزیرِ دفاع ٹور سینڈوِک نے یوکرین میں شمالی کوریا کے فوجیوں کی لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی اٹلانٹک اور انڈو-پیسفک خطے اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے، امریکہ اب ایک سے زیادہ محاذوں پر مصروف ہوگا۔

پینٹاگون کی جانب سے کی جانے والی تمام تر تنقید کے باوجود کئی امریکی سینیٹرز اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے ارکان نے کہا کہ وہ یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کانگریس میں دونوں جماعتوں (بائی پارٹیسن) کی حمایت حاصل ہے۔ امریکی سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے کہا کہ میں نے صرف اس خطے میں ہی نہیں، بلکہ ہر ایک سے یہی تشویش سنی ہے۔ درحقیقت میرے نیٹو اتحادی بھی انڈو پیسفک کے لیے امریکہ کے عزم کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اس کے باوجود دیگر مندوبین میں اپنی اجتماعی سیکیورٹی پر سرمایہ کاری کے حوالے سے یورپ کی تبدیلی کی رفتار پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ کارنیگی اینڈومنٹ کے نان ریزیڈنٹ سینئر فیلو اور یوکرین کے سابق وزیرِ خارجہ پاولو کلمکن نے کہا کہ یورپ کو ایک اہم کھلاڑی بننا سیکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے لیکن یہ ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ ان کی شراکت داری کے لیے انتہائی فائدہ مند ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکہ یورپ کے اس طرح کے جذبے کا احترام کرے گا۔