رائے

صرف سڑکیں ہی نہیں منزل بھی اہم

  • شاہراہِ بھٹو تجارتی لاگت میں نمایاں کمی اور شہر سے باہر جانے کے سفری وقت میں ایک گھنٹے سے زائد بچت کا منہ بولتا ثبوت ہے
شائع اپ ڈیٹ

سڑکیں اور فلائی اوورز بلاشبہ کسی بھی معیشت کی شریانیں ہوتے ہیں لیکن شریانوں کا کمال تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ جسم کے اہم اعضاء تک خون پہنچائیں۔ انفرااسٹرکچر کی تعمیر اپنی جگہ اہم سہی، مگر اصل اہمیت اس منزل کی ہے جہاں یہ راستے ہمیں لے کر جاتے ہیں۔ کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بچھنے والا ایکسپریس ویز کا نیا جال صرف اسفالٹ اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے نئے معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ہے جو شہر کو عالمی مالیاتی، صنعتی اور سیاحتی مرکز بنانے کا عزم لیے ہوئے ہے۔

ایک ایسے میٹروپولیس (بڑے شہر) کے لیے جو پاکستان کے معاشی انجن کا کام کرتا ہے، بندرگاہ کی بھاری ٹریفک کو ایک مخصوص ایکسپریس وے نیٹ ورک پرمنتقل کرنا صرف روزمرہ کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ شہر کے لاجسٹکس فریم ورک کو بنیادی طور پر ازسرِ نو ترتیب دینے کے بارے میں ہے۔

مشکل میکرو اکنامک (مجموعی معاشی) حالات میں اربوں روپے کے انفرااسٹرکچر پروجیکٹ کی تکمیل سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کی کامیابی کی نشان دہی کرتی ہے۔ سرکاری خزانے کو مکمل طور پر خالی کرنے کے بجائے صوبائی حکومت نے ان میگا پروجیکٹس کی مالی اعانت، تعمیر اور آپریشنز کے لیے کاروباری برادری کے ساتھ کنسورشیم بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ ماڈل جس کی اس صوبے میں شروعات کی گئی تھی اور جو پہلے بھی علاقائی ہیلتھ کیئر نیٹ ورکس سے لے کر لیاری ایکسپریس وے جیسے اہم سفری راستوں تک کے اقدامات میں کارآمد ثابت ہو چکا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ جب حکومت نجی اداروں کے ساتھ خطرات اور انعامات کا اشتراک کرتی ہے تو نتیجہ تیز، موثر اور بڑے پیمانے پر عوامی خدمات کی فراہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔

شاہراہِ بھٹو اس کامیاب ماڈل کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جو شہر سے باہر جانے کے سفری وقت میں ایک گھنٹے سے زائد کی بچت اور بندرگاہ کی لاجسٹکس پر انحصار کرنے والی صنعتوں کے لیے تجارتی لاگت میں نمایاں کمی کا مژدہ سناتی ہے۔ شہریوں کے لیے اس کا سیدھا مطلب ٹریفک جام کی نذر ہونے والے قیمتی گھنٹوں کو واپس حاصل کرنا ہے۔ کراچی کے قلب میں ٹریفک کا دباؤ کم ہونے سے نہ صرف عوامی زندگی کا معیار بہتر ہوگا اور گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کو پرہجوم سڑکوں پر بے کار وقت گنوانے کے بجائے اپنے اہل خانہ کے ساتھ یادگار لمحات گزارنے کا موقع میسر آئے گا۔

تاہم جہاں سڑکیں اور ایکسپریس ویز کسی معیشت کی شریانوں کی مانند ہوتے ہیں وہاں منزل بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنا کہ سفر۔ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک ایسا وژن پیش کیا جو روایتی انفرااسٹرکچر سے ہٹ کر متحرک اور دولت پیدا کرنے والے مراکز (ہبز) کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ان منصوبوں میں سب سے کلیدی حیثیت مجوزہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کو حاصل ہے۔ عالمی سطح پر انتہائی کامیاب دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ڈی آئی ایف سی) کی طرز پر قائم کیا جانے والا یہ مرکز ایک مخصوص اور کاروبار دوست ریگولیٹری زون فراہم کرے گا، جس کا بنیادی مقصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )، کثیر القومی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز اور اعلیٰ پایہ کی مالیاتی خدمات کو راغب کرنا ہے۔ عالمی سرمائے کے لیے ایک محفوظ اور جدید ترین زون قائم کر کے کراچی خطے کے اہم تجارتی و مالیاتی مرکز کے طور پر اپنا تاریخی تشخص بحال کر سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ اقدام براہِ راست معاشی خوشحالی کا ضامن بنے گا، جس سے نہ صرف اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتیں اور مہارتیں پروان چڑھیں گی، بلکہ اس برین ڈرین کا بھی خاتمہ ہوگا جس کے باعث مقامی ٹیلنٹ مجبوراً بیرونِ ملک روزگار تلاش کرتا ہے۔ اس وژن کو مزید تقویت دینے کے لیے دفاعی پیداوار کا ایک خصوصی زون بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی برآمدات بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

مزید برآں کراچی کے مستقبل کا یہ بلیو پرنٹ شہر کے سب سے انمول مگر اب تک نظرانداز کیے گئے اثاثے یعنی اس کی ساحلی پٹی کو نئی زندگی دینے کا عزم لیے ہوئے ہے۔ ایک جدید اور عالمی معیار کے کارنیش (ساحلی شاہراہ و تفریحی گاہ) کی تعمیر یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگانے کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔ سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا یہ پُرکشش ساحلی فرنٹ محض شہر کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث ہی نہیں بنے گا بلکہ مہمان نوازی (ہاسپیلیٹی)، ریٹیل اور تفریحی صنعتوں کا ایک ایسا متحرک نیٹ ورک تخلیق کرے گا جو مقامی معیشت کو ایک نئی جہت اور تیز رفتاری دے گا۔

عالمی شہروں میں واٹر فرنٹ کی کایا پلٹ کی طرح یہ جدید کارنیش شہریوں کو نہ صرف ایک بہترین عوامی تفریح گاہ فراہم کرے گا بلکہ کراچی کو ملکی و علاقائی سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر بھی متعارف کروائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر عالمی معیار کی تفریحی سہولیات فراہم کرے گا۔ اب تفریح کی خاطر بیرونِ ملک کا رخ کرنے کے بجائے پاکستان بھر کے خاندانوں کے پاس خود اپنے ملک میں ایک بین الاقوامی معیار کا تفریحی مرکز دستیاب ہوگا، جو اجتماعی خوشحالی اور شہری فخر کو فروغ دے گا۔

جب اس وژن میں کیٹی بندر سی پورٹ جیسے پُرعزم منصوبے کو بھی شامل کیا جائےجس کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری نے یہ اُمید ظاہر کی ہے کہ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت تعمیر ہونے والی دنیا کی پہلی بندرگاہ ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی نئے مالیاتی و صنعتی زونز اور ایکسپریس ویز کے پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو دیکھا جائے تو یہ وسیع تر حکمتِ عملی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ کراچی میں صرف سڑکیں ہی پکی نہیں کی جا رہیں بلکہ اسے پائیدار اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی طور پر ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی کامیابی نے ایک واضح بلیو پرنٹ فراہم کر دیا ہے، اب وقت آگے بڑھ کر مستقبل کی تعمیر کا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026