بجٹ 27-2026: صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا
- قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو شام 5 بجے جبکہ سینیٹ اجلاس 5 جون کو شام 6 بجے ہوگا
صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعہ 5 جون کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی منظوری دے دی۔ یہ بات بدھ کو ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو شام 5 بجے جبکہ سینیٹ اجلاس 5 جون کو شام 6 بجے ہوگا۔
یہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54(1) کے تحت طلب کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیے جانے سے قبل 5 جون کی صبح وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ بجٹ 27-2026 کی منظوری دی جا سکے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے اور اسے بحث کے لیے سینیٹ کے سامنے رکھیں گے۔
پارلیمانی روایت کے مطابق جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر ہاؤس دو دن (ہفتہ اور اتوار) کا وقفہ دیں گے اور بجٹ پر بحث کے آغاز کے لیے ایوان کا اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کر دیں گے۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بجٹ پر بحث کا آغاز کریں گے۔
بجٹ سے قبل 4 جون کو پاکستان اکنامک سروے 26-2025 جاری کیا جائے گا جو رخصت ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کی معاشی کارکردگی کا ایک اوور ویو فراہم کرے گا۔
حکومت ایک ایسے وقت میں ملک کا بجٹ تیار کر رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے تنازع سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اصلاحاتی اہداف کو پورا کرنے کا دباؤ درپیش ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدا میں یکم جون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ کی عدم موجودگی کے باعث اس شیڈول میں تبدیلی کی گئی۔ اس وقت پارلیمنٹ کے 60 سے زائد ارکان مملکت (سعودی عرب) میں موجود ہیں جن کی جون کے پہلے ہفتے میں واپسی متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز ٹیکس اقدامات اور مالیاتی سفارشات پر کام جاری ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت ٹیکسیشن، توانائی کی قیمتوں، تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان اقدامات پر بھی بات چیت جاری ہے جن کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ حکومت آنے والے بجٹ میں عام شہریوں پر مالی بوجھ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ڈسپلن کو برقرار رکھنے اور ریونیو کی وصولی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ عوام کو ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی تھی کہ وفاقی بجٹ 2026-27 محض قلیل مدتی معاشی استحکام تک محدود نہ رہے بلکہ اسے پائیدار اقتصادی اصلاحات، مالی شفافیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بنایا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے ٹیکس نیٹ میں پائیدار توسیع کے بجائے، بالواسطہ ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی پر مسلسل انحصار کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026