مارکٹس

امریکا اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کی توقع پر تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 2.67 ڈالر یا 2.68 فیصد کمی کے بعد 96.91 ڈالر فی بیرل تک آ گئی
شائع اپ ڈیٹ

تیل کی عالمی قیمتوں میں بدھ کے روز تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے خطے میں دوبارہ بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 2.67 ڈالر یا 2.68 فیصد کمی کے بعد 96.91 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل 3.43 ڈالر یا 3.65 فیصد گر کر 90.46 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس کمی سے منگل کو برینٹ کی حاصل کردہ بڑھوتری بھی متاثر ہوئی۔

پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ ”بحران کے خاتمے کی جانب واضح پیش رفت ہوئی ہے اور اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی لیے قیمتوں پر دوبارہ نیچے کی جانب دباؤ بڑھا ہے۔“ ان کا اشارہ عالمی تیل و گیس ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز کی جانب تھا۔

گزشتہ سیشن میں جولائی کے برینٹ فیوچر میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب امریکا نے ایران میں نئے حملے کیے، جس سے وہ امیدیں متاثر ہوئیں جو ہفتے کے اختتام پر امریکا اور ایران کے ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے پیدا ہوئی تھیں۔

کامرز بینک کے تجزیہ کاروں نے بدھ کو کہا کہ ایران کے میزائل مقامات اور اُن جہازوں پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد، جن پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا شبہ ظاہر کیا گیا، امریکا اور ایران کے درمیان فریم ورک معاہدے کی امیدیں کسی حد تک کمزور پڑی ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکاء کا اعتماد بدستور برقرار ہے۔

ایران نے منگل کو الزام عائد کیا تھا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب اہداف کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جبکہ واشنگٹن نے اپنے حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیا۔

ادھر اسرائیل نے لبنان میں بمباری میں شدت پیدا کر دی، جس سے امن کی کوششوں کو مزید دھچکا پہنچا۔

تین ماہ پر محیط تنازع کے دوران اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا تھا۔

حالیہ دنوں میں کچھ ایل این جی بردار جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات نے اس توقع کو تقویت دی ہے کہ یہ اہم بحری راستہ جلد دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتا ہے، جس سے عالمی سپلائی میں اضافہ ہوگا۔