پاکستان

چینی صدر کا پاکستان کے ساتھ ''اٹوٹ" تعلقات کا خیرمقدم، ایران معاملے میں امن کوششوں کو سراہا

  • بیجنگ ہمیشہ پاک چین تعلقات کی ترقی کو اولین ترجیح دیتا ہے، شی جن پنگ
شائع اپ ڈیٹ

چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز بیجنگ میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ چین کی ”ناقابلِ شکست“ دوستی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ”ہر موسم کی شراکت داری“ کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

چینی دارالحکومت کے عظیم عوامی ہال میں پاکستانی وزیراعظم کا ” دیرینہ دوست“ کے طور پر خیرمقدم کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک نے دہائیوں سے ایک دوسرے کو سمجھا، اعتماد کیا اور ہر موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔

پاکستان ان چند منتخب ممالک میں شامل ہے جنہیں چین ”ہر موسم کا اسٹریٹجک پارٹنر“ سمجھتا ہے، اور یہ شراکت داری معیشت، تجارت اور سکیورٹی کے قریبی تعاون پر محیط ہے۔

صدر شی نے کہا کہ ”عالمی حالات میں کسی بھی تبدیلی کے باوجود چین اپنی ہمسائیگی کی سفارت کاری میں چین پاکستان تعلقات کی مضبوطی کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہے۔“

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ زراعت، صنعت، مصنوعی ذہانت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

بیجنگ نے اسلام آباد کے ساتھ مل کر ایک زیادہ قریبی چین پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی( ہم نصیب معاشرہ) تشکیل دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھے جائیں اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر چین اور پاکستان کو ”آہنی بھائی“ ممالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلقات بے مثال نوعیت کے حامل ہیں۔

پاکستان کے ”تعمیری کردار“ کی تعریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر بھی موجود تھے، جو حال ہی میں ایران میں وہاں کی قیادت سے ملاقاتوں کے لیے گئے تھے۔

ایران اور دیگر فریقین کے درمیان اپریل میں طے پانے والے نازک جنگ بندی کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی میزبانی کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجاویز اور پیغامات کا تبادلہ کرایا گیا۔

اسلام آباد کی ان سفارتی کوششوں کے چند ہفتوں بعد واشنگٹن نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاع دی ہے۔

چینی صدرشی جن پنگ نے کہا کہ ”مجھے معلوم ہے کہ آپ حال ہی میں ایران سے واپس آئے ہیں اور موجودہ امن کے لیے مثبت کوششیں کی ہیں۔ ہم پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔“

چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی نے کہا کہ دونوں ممالک کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اعلیٰ سطح کی اور وسیع تر سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص تنازع کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔

پاکستان کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اپنی ثالثی کوششوں میں چین کو بھی شامل رکھے، کیونکہ بیجنگ اور تہران کے درمیان قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔

چین اور پاکستان نے مارچ میں اپنے وزرائے خارجہ کی بیجنگ میں ملاقات کے دوران ایک مشترکہ تجویز پیش کی تھی، جس میں امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا گیا تھا۔