پاکستان

قانونی شعبے کی ترقی کے لیے ٹیکس استحکام ناگزیر ہے، پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا مطالبہ

  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے تمباکو کمپنی کے وفد کی اہم ملاقات، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، شفافیت لانے اور ریونیو ضیاع روکنے پر تفصیلی گفتگو
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ایک ملاقات کے دوران قانونی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس فریم ورک فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت پیر کو فنانس ڈویژن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور پی ٹی سی کے وفد کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں سامنے آئی۔ وفد کی قیادت عثمان ظہور، ایریا ڈائریکٹر اے پی ایم ای اے سی اور جنرل مینیجر پاکستان کر رہے تھے، جبکہ وفد میں مارکیٹنگ، کارپوریٹ افیئرز اور فسکل افیئرز کے سینئر نمائندے بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے حکومت کے وسیع تر مالیاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی، جس کا محور آمدنی میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانا اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے شفافیت لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس انتظامیہ میں جاری اصلاحات کا مرکز افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کی تعمیل (کمپلائنس) کو بہتر بنانا، ریونیو کے ضیاع کو روکنا اور پوری معیشت میں منصفانہ ٹیکس وصولی کو یقینی بنانا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے نافذ کیے جانے والے سخت اقدامات کے باعث متعدد شعبوں میں ٹیکس وصولی اور قوانین پر عملدرآمد میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ چینی، سیمنٹ، مشروبات (بوریجز)، ٹیکسٹائل اور تمباکو سمیت مختلف صنعتوں میں غیر قانونی اور غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی سی کے وفد نے حکومت کے اصلاحاتی اور نفاذِ قانون کے اقدامات کو سراہا اور تمباکو کے شعبے بشمول ایکسائز ٹیکسیشن، غیر قانونی تجارت، مارکیٹ کی صورتحال اور برآمدی مسابقت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وفد نے غیر قانونی اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کے خلاف حالیہ حکومتی کارروائیوں کا اعتراف کیا اور قانونی شعبے کی ترقی اور پائیدار آمدنی کے حصول کے لیے ایک مستحکم اور واضح ٹیکس فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات میں ریگولیٹری اور ٹیکسیشن کے مسائل، شعبے کی مسابقت، مارکیٹ کے رجحانات اور دستاویزی معیشت سے باہر کام کرنے والی غیر قانونی مصنوعات کا حصہ کم کرنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے وفاقی اور صوبائی حکام کے مابین مشترکہ نفاذِ قانون کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کی۔

وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریونیو اکٹھا کرنا اور قوانین کا مؤثر نفاذ حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور قوانین پر عملدرآمد کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم کسی بھی مخصوص شعبے کی تجاویز کا جائزہ وسیع تر مالیاتی اہداف اور معاشی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر ہی لیا جائے گا۔

ملاقات میں تمباکو کے شعبے اور اس سے وابستہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں برآمدی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بات ہوئی۔وفد نے بعض مصنوعات کے زمرے میں پاکستان کے بطور علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے کردار کو اجاگر کیا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں موجود مواقع کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ اسی نوعیت کی دیگر مارکیٹوں میں نافذ العمل قوانین، ٹیکس ماڈلز اور ریگولیٹری طریقوں کے علاقائی تجربات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے وفد کی تجاویز کو سراہا اور سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی سرگرمیوں اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے رسمی کاروباری شعبے (فارمل بزنس سیکٹر) کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار میں آسانی پیدا کرنے، قوانین کی تعمیل کے نظام کو مضبوط بنانے اور ایک زیادہ شفاف اور مسابقتی معاشی ماحول پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔