حکومت آٹوموبائل اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 31-2026 لانے کی تیاری کررہی ہے۔ نیو انرجی وہیکلز پالیسی کو بھی اسی میں ضم کیا جارہا ہے اور اس پالیسی کو نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے مطابق ڈھالا جارہا ہے جس میں اصل تنازع کی وجہ استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ (درآمد) ہے۔ کسی بھی دوسری پالیسی کی طرح، اس میں تجویز کردہ اہداف بھی زمینی حقائق سے زیادہ ایک خواہشات کی فہرست (وش لسٹ) معلوم ہوتے ہیں‌۔

حکومت 2031 تک گاڑیوں کی پیداوار کو موجودہ 2 لاکھ یونٹس سے بڑھا کر 5 لاکھ یونٹس تک لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہدف یہ بھی مقرر کیا گیا ہے کہ مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں میں 30 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) پر مشتمل ہو۔

یہ اہداف اگرچہ مشکل ضرور ہیں لیکن پھر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں, تاہم 2031 تک 80 فیصد لوکلائزیشن اور ایک ارب ڈالر برآمدات جیسے دیگر اہداف محض خیالی تصورات دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے باوجود پالیسی میں کچھ دلچسپ پہلو بھی شامل ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث نیو انرجی وہیکلزکی جانب منتقلی کا عمل تیز ہوگیا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران متعارف کرائی جانے والی بیشتر نئی گاڑیاں این ای ویز پر مشتمل ہیں۔

اس رجحان کا تسلسل اس بات پر منحصر ہوگا کہ نئی پالیسی میں نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کو کس نوعیت کی مراعات دی جاتی ہیں۔ ایسی ہر گاڑی جو خالص الیکٹرک موڈ پر کم از کم 50 کلومیٹر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، این ای وی مراعات کے لیے اہل قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ اس میں بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) شامل ہوں گی، بشرطیکہ وہ مذکورہ شرط پوری کریں۔ فی الحال بی ای ویز اور آر ای ای ویز پر جی ایس ٹی کی شرح 1 فیصد ہے جبکہ بیشتر پی ایچ ای ویز پر یہ شرح 8.5 فیصد عائد ہے۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی اسٹرکچر میں بھی کچھ مراعات موجود ہیں۔

حکومت تمام نیو انرجی وہیکلزکے لیے ایک جیسی مراعات کی پیشکش کر سکتی ہے، جس میں جی ایس ٹی ممکنہ طور پر یا تو 1 فیصد یا پھر 8.5 فیصد مقرر کیا جا سکتا ہے‌۔

دوسری جانب اسی کیٹیگری کی بیشتر آئی سی ای گاڑیوں پر کاربن لیوی کے ساتھ 25 فیصد جی ایس ٹی عائد ہے۔ اس فرق نے مہنگی نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) اور روایتی آئی سی ای گاڑیوں کی قیمتوں میں وہ توازن پیدا کیا ہے جو این ای ویز کو نسبتاً زیادہ قابلِ خرید بناتا ہے۔ اگر حکومت اس قیمت کے فرق کو مزید بڑھاتی ہے تو این ای ویز کی فروخت میں اضافہ ہوگا اور اگر یہ فرق کم ہوا تو فروخت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ نیو انرجی وہیکلزکو تیزی سے فروغ دینے کے لیے قیمتوں کے اس فرق کو برقرار رکھے بلکہ اگر ممکن ہو تو اسے مزید بڑھائے۔ اس سے نہ صرف گاڑیوں کے ایندھن کا درآمدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ تیزی سے آلودہ ہوتے شہروں میں کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی۔ پٹرولیم سے بجلی پر منتقلی کا یہ عمل نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی بہتر ہے کیونکہ بجلی کا ایک بڑا حصہ مقامی ایندھن اور قابلِ تجدید ذرائع بشمول سولرسے پیدا کیا جا رہا ہے‌۔

اس سے بھی زیادہ فوری اور اہم ضرورت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں (موٹر سائیکلوں اور رکشوں) کو الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو شاید سبسڈیز (مالی امداد) فراہم کرنا پڑے گی کیونکہ روایتی (پیٹرول پر چلنے والے) موٹر سائیکل اور رکشے انتہائی سستے ہیں اور ان کے پرزے بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر تیار ہوتے ہیں۔ تاہم ایندھن کے مجموعی استعمال میں ان کا حصہ بہت زیادہ ہے اور کاربن کے اخراج میں ان کا حصہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ ان میں اب بھی دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے‌۔

اس شعبے میں چونکہ ایندھن کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے اس لیے قدرتی طور پر الیکٹرک وہیکلز کی جانب منتقلی کے امکانات بہت روشن ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

گاڑیوں کے معاملے میں اضافی حکومتی معاونت ناگزیر ہے۔ حکومت اس حوالے سے اقدامات کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، تاہم ممکنہ طور پر یہ سہولت مجموعی قیمتوں میں کمی کے بجائے قیمتوں کے فرق کو برقرار رکھنے کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ بڑھتی ہوئی درآمدی دباؤ کے دوران گاڑیوں کی درآمدات میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت موجودہ کاربن لیوی کے علاوہ آئی سی ای گاڑیوں پر 5 سے 15 فیصد تک ماحولیاتی لیوی بھی عائد کرسکتی ہے۔

آٹو اسمبلرز اس معاملے پر دو حصوں میں تقسیم ہیں لیکن حکومت کو نیو انرجی وہیکلز کی حمایت کرنی چاہیے۔ تاہم تمام آٹو اسمبلرز استعمال شدہ گاڑیوں کی لابی کے خلاف مکمل متحد ہیں۔ دوسری جانب آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں پر ملنے والی ڈیوٹی پروٹیکشن کو ختم کیا جائے‌۔

تاہم مناسب حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات کے بغیر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے ہی سڑکوں پر چلنے والی پرانی گاڑیوں کے لیے مؤثر معیار موجود نہیں اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کھولنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ روزگار کے مواقع اور مقامی معاشی ویلیو ایڈیشن کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ حکومت کو صرف اتنا کرنا چاہیے کہ قیمتوں کے فرق میں کمی لائے تاکہ اسمبلرز زیادہ مؤثر اور مسابقتی بن سکیں۔

اور حقیقت یہ ہے کہ اسمبلرز اب زیادہ مؤثر ہوتے جارہے ہیں۔ 2015 کے برعکس، جب صرف تین اسمبلرز موجود تھے اور صارفین کے پاس انتخاب کے محدود مواقع تھے، اب ایک درجن سے زائد اسمبلرز مارکیٹ میں موجود ہیں، جدید ترین گاڑیاں پاکستان میں متعارف کرائی جارہی ہیں جبکہ بڑھتا ہوا مقابلہ قیمتوں میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔

اب اس مقابلے کو مزید آگے بڑھنے دینا چاہیے تاکہ نیو انرجی وہیکلزکی مارکیٹ میں بھی شیئر حاصل کرنے کے لیے ایسی ہی زبردست مسابقت دیکھنے کو ملے۔ تاہم میکرو اکنامک ماحول کو درست کیے بغیر کوئی بھی چیز مثالی نتائج فراہم نہیں کرے گی۔ پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت ابھی تک اس اہم ترین حد کو پار نہیں کرسکی ہے، کیونکہ فی کس آمدنی اب بھی کم ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے وقتاً فوقتاً امپورٹ کربز لگا دی جاتی ہیں، یہاں تک کہ سی کے ڈی کی امپورٹ پر بھی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں‌۔

اسٹیٹ بینک کار فنانسنگ پر حد مقرر کرتا ہے اور اب اس چیز کو بھی پالیسی میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے حالانکہ اصولی طور پر یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔

مجموعی طور پر اس پالیسی کو لوکلائزیشن کو بڑھانا چاہیے اور نیو انرجی وہیکلز کے شیئر میں اضافہ کرنا چاہیے لیکن اس پالیسی کی کامیابی کا اصل دارومدار معیشت کی ان ساختی کمزوریوں کو درست کرنے پر ہے جن کا آٹو پالیسی سے بذاتِ خود کوئی خاص تعلق نہیں ہے‌۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026