امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ سے متعلق ووٹ اچانک منسوخ
- یہ ووٹنگ جمعرات کی شام اس وقت متوقع تھی جب ارکان کانگریس میموریل ڈے تعطیلات کے لیے واشنگٹن سے روانہ ہونے والے تھے
امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے جمعرات کو اچانک اس قرارداد پر ووٹنگ مؤخر کر دی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب دو روز قبل امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی ایک قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی۔
یہ ووٹنگ جمعرات کی شام اس وقت متوقع تھی جب ارکان کانگریس میموریل ڈے تعطیلات کے لیے واشنگٹن سے روانہ ہونے والے تھے۔ رواں سال اس سے قبل ایوان نمائندگان تین ایسی قراردادیں مسترد کر چکا ہے، جنہیں ریپبلکن ارکان کی بھرپور حمایت حاصل رہی، جس سے ایران جنگ اور صدر ٹرمپ کے لیے پارٹی کی مضبوط حمایت ظاہر ہوتی ہے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مخالفت میں اضافہ دیکھا گیا۔ آخری قرارداد برابر ووٹوں کے باعث ناکام ہوئی تھی جبکہ اس بار چند ریپبلکن ارکان کی ممکنہ بغاوت اور بعض کی غیر حاضری کے باعث قرارداد کی منظوری کا امکان بڑھ گیا تھا۔
ایوان خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مطلوبہ ووٹ موجود تھے اور ریپبلکن قیادت یہ جانتی تھی۔ ان کے مطابق ووٹنگ اب جون کے اوائل تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
ڈیموکریٹس اور چند ریپبلکن ارکان کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے واضح حکمت عملی کے بغیر امریکا کو ایک طویل جنگ میں جھونک دیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور بیشتر ریپبلکن ارکان صدر کے اقدامات کو قانونی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بطور کمانڈر اِن چیف صدر کو امریکا کے دفاع اور فوری خطرات کے خاتمے کے لیے محدود فوجی کارروائیوں کا اختیار حاصل ہے۔