کاروبار اور معیشت

بڑھتی لاگت سے پیکیجنگ اور پیپر انڈسٹری شدید بحران کا شکار

حکومت توانائی کی قیمتیں مستحکم، تاجروں کو ریلیف فراہم کرے، حسن رضا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی پیکیجنگ اور پیپر (پیکیجنگ اور کاغذ کی) انڈسٹری بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ خام مال اور توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں مینوفیکچررز کو مسلسل نچوڑ رہی ہیں جبکہ دوسری جانب مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے خلاف مزاحمت اس شعبے کے استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے جسے ملک کی صنعتی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران کرافٹ پیپر، پلپ (لکڑی کی لئی)، ایڈھیسیوز (چپکنے والے مادوں)، سیاہی اور ایندھن سمیت اہم ترین خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اسی کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں اضافے نے مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے مینوفیکچررز کے منافع کے مارجن لگاتار سکڑ رہے ہیں۔

کرافٹ پیپر جو کہ اس شعبے کے سب سے ضروری خام مال میں سے ایک ہے، عالمی طلب میں اضافے اور محدود سپلائی کے باعث اس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین نے اشارہ کیا ہے کہ پیکیجنگ کی تیاری میں مجموعی خام مال کے اخراجات کا تقریباً 70 فیصد حصہ صرف کاغذ کا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں ہونے والا معمولی سا اضافہ بھی مینوفیکچررز کو شدید متاثر کرتا ہے۔

آل پاکستان پیپر مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر (نارتھ زون) حسن رضا کا کہنا ہے کہ ایندھن اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ایران امریکہ جیو پولیٹیکل تنازعہ، کاغذ اور کاغذی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل جاری کشیدگی نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور امپورٹ (درآمدی) اخراجات کو بڑھا دیا ہے جس سے انڈسٹری پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

حسن رضا نے حکومت پر زور دیا کہ وہ توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرے اور تاجروں کو ریلیف فراہم کرے اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر قیمتوں میں اس بے لگام اضافے کو نہ روکا گیا تو ملک بھر میں پبلشنگ (اشاعت)، پیکیجنگ اور اسٹیشنری کے شعبے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔

عرشیہ طیب نے موجودہ صورتحال کو آپریشنل اور مالیاتی دونوں لحاظ سے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیکیجنگ تقریباً ہر انڈسٹری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے ایک قابلِ بھروسہ سپلائی چین کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خام مال اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ پہلے ہی بہت شدید ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مون سون کے سیزن کے باعث لاجسٹکس (نقل و حمل) میں متوقع رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے عرشیہ طیب نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں کاغذ کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ طویل مدتی سپلائی چین کے استحکام اور معیاری پیکیجنگ مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قیمتوں کے تعین میں باہمی تعاون اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنانا ناگزیر ہے۔

ابراہیم تواب نے بھی مینوفیکچررز کے لیے بگڑتے ہوئے حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کاغذ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ری سائیکل شدہ مواد کی سپلائی کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہیں۔

ابراہیم تواب نے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کہ مینوفیکچررز پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے انٹرسٹ ریٹس میں کمی کی جائے اور ٹرانسپورٹ سبسڈیز متعارف کروائی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ٹھوس پالیسی سپورٹ فراہم نہ کی گئی تو کاغذ کی مینوفیکچرنگ کا شعبہ شدید معاشی دباؤ کا شکار رہے گا۔

انڈسٹری ماہرین نے یہ وارننگ بھی دی ہے کہ طویل مدتی مالیاتی دباؤ پیکیجنگ کے معیار (کوالٹی اسٹینڈرڈز) کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بنانے، ان کی شیلف لائف بڑھانے اور برانڈ کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں پیکیجنگ کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ پیکیجنگ کے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے جدید مشینری، ہنر مند لیبر اور اعلیٰ درجے کے خام مال میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں اب حد سے زیادہ مہنگی ہوچکی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026