این ٹی پی: ڈیوٹیوں میں کٹوتی کا دوسرے مرحلہ فنانس ایکٹ کے ذریعے نافذ ہوگا
- اقدام سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق ٹیرف کی مجموعی اوسط شرح میں نمایاں کمی واقع ہوگی
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کے دوسرے مرحلے کو فنانس ایکٹ 27-2026 کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔ اس اقدام سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق ٹیرف کی مجموعی اوسط شرح میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
آئی ایم ایف کے ایف ایف ایف کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے مطابق مارکیٹ کے بگاڑ کو دور کرنے، نجی سرمایہ کاری بڑھانے اور پیداواری کارکردگی میں اضافے کے لیے گندم اور چینی کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ان اصلاحات کی بدولت مارکیٹ میں قیمتوں کا حقیقت پسندانہ تعین ممکن ہوسکے گا جس کی اہمیت عالمی سطح پر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر مزید بڑھ جاتی ہے۔
آئی ایم ایف نے تاکید کی ہے کہ گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کی دیکھ بھال کا نظام فول پروف ہونا چاہیے اور یہ خریداری عالمی مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق نجی شعبے کے ذریعے ہونی چاہیے جبکہ ان ذخائر کو صرف ہنگامی حالات میں ہی مارکیٹ میں لایا جائے۔
دوسری جانب چینی کے شعبے میں حکام جون 2026 کے آخر تک ایک نئی قومی پالیسی لانے کے لیے کوشاں ہیں جس کے تحت زوننگ اور لائسنسنگ کی پابندیاں ختم کی جائیں گی، گنے اور چینی کی سرکاری قیمتوں کا تعین بند ہوگا اور ایک مربوط و شفاف طریقہ کار کے تحت امپورٹ اور ایکسپورٹ کو مکمل آزادی دی جائے گی۔
آئی ایم ایف نے مشاہدہ کیا کہ کھاد کی تجارت میں تعطل سے فوری خطرات قابلِ انتظام ہیں، کیونکہ پاکستان یوریا کی پیداوار میں نسبتاً خود کفیل ہے۔ تاہم ڈی اے پی کی فراہمی میں طویل رکاوٹیں خریف کی بوائی کے موسم (جون–جولائی) کو متاثر کرسکتی ہیں جبکہ عالمی سطح پر کھاد کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ خوراک کی درآمدی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
حکام نے فنڈ کو آگاہ کیا کہ ایک برآمدات پر مبنی اور نجی شعبے کی قیادت والی معیشت کی جانب وسیع تر تبدیلی کے حصے کے طور پر حکومت اجناس کی منڈیوں میں اپنا کردار کم کرنے کے اقدامات کررہی ہے، ان کے مطابق یہ اقدامات عالمی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں ضروری غذائی اشیاء کی قلت کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔
ربیع کے سیزن 26-2025 کے لیے نومبر 2025 میں نافذ کی گئی عبوری گندم پالیسی کے باعث پہلے ہی گندم کی کاشت میں کئی سالوں کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب اسٹریٹجک ذخائر کے لیے خریداری عالمی مارکیٹ کے نرخوں پر نجی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔
دوسری طرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں مئی 2026 کے آخر تک گندم کی طویل مدتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ قیمتوں کے منصفانہ تعین اور بین الصوبائی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔
چینی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکام نے سفارشات کا مسودہ صوبوں کو بھیج دیا ہے جسے جون 2026 کے اختتام تک وفاقی کابینہ سے منظور کرانے کا ہدف ہے۔
حکومت نے نیشنل ٹیرف پالیسی (30-2025) اور نئی آٹو پالیسی کے تحت تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔ نئی آٹو پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں ہے جس کے تحت مالی سال 2030 تک ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی بڑی کمی لائی جائے گی۔
دوسری جانب مقامی اور امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور سیفٹی کے معیارات کو قانونی شکل دینے والا ’موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ ایکٹ‘ پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا ہے جسے جون 2026 کے اختتام سے قبل قومی اسمبلی سے منظور کرائے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق تجارتی درآمدات کی قانونی اجازت کے بعد پرسنل بیگیج اسکیم کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کا غلط استعمال روکنے کے لیے ان کی شرائط مزید سخت کردی گئی ہیں۔ امپورٹ اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈرز کے تفصیلی جائزے کے دوران 2,662 نان ٹیرف رکاوٹوں کی نشان دہی ہوئی ہے جن میں سے 76 ایچ ایس کوڈز پر عائد پابندیاں مئی 2026 کے اختتام تک ہٹا دی جائیں گی جبکہ باقی ماندہ رکاوٹوں کا مرحلہ وار جائزہ لے کر انہیں ستمبر 2026 کے آخر تک ریگولیٹری اصلاحات کی کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پاکستان سنگل ونڈو اور پرال کے ڈیٹا میں موجود تضادات کو دور کرنے کے بعد سال 2020 سے 2025 تک کی سہ ماہی اور سالانہ امپورٹ ڈیٹا کی تصحیح کردی ہے۔ اس نظرثانی شدہ ماہانہ ڈیٹا کو تفصیلی وضاحت کے ساتھ اگست 2026 کے اختتام تک جاری کیا جائے گا۔ تجارتی اعدادوشمار کو بااعتماد اور یکساں بنانے کے لیے دونوں اداروں کے مابین ڈیٹا کی تعریفوں کو ہم آہنگ کرنے اور باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیاں روکنے کیلئے کیے جانے والے عالمی تجارتی اقدامات، خاص طور پر یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم سے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فی الوقت تو اس پالیسی کا دائرہ کار محدود ہے لیکن اگر مستقبل میں اسے ٹیکسٹائل جیسے اہم شعبوں تک بڑھایا گیا تو عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے رپورٹ میں ماحولیاتی اثرات کی جانچ رپورٹنگ اور تصدیق (ایم آر وی) کے نظام کو بہتر بنانے، صنعتوں کے لحاظ سے کاربن کے اخراج میں کمی کی حکمتِ عملی تیار کرنے اور وزارتِ تجارت و ماحولیات کے مابین بہترین ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان معاملات پر بروقت پیش رفت سے نہ صرف عالمی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی محفوظ رہے گی بلکہ برآمدات میں استحکام آئے گا اور پاکستان کم کاربن پر مبنی عالمی کاروباری نظام سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو سکے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026