قطر سے ایل این جی کا دوسرا بحری جہاز گزشتہ روز پورٹ قاسم کراچی پہنچ گیا جسے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان دونوں ٹینکرز کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان، ایران اور قطر کی اعلیٰ قیادت نے فعال کردار ادا کیا۔ تاہم یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس خبر کا ذریعہ دفترِ خارجہ کی جانب سے مقامی میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے بجائے ایک برطانوی خبر رساں ادارہ ہے۔

قطر انرجی نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور اس کے ردعمل میں خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات پر ایرانی جوابی کارروائی کے فوراً بعد تمام متاثرہ طویل المدتی خریداروں کے لیے ’فورس میجر‘ (ایک قانونی شق جو غیر معمولی اور ناقابلِ پیش گوئی حالات میں فریقین کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیتی ہے) کا اعلان کر دیا تھا۔ 19 مارچ کو کمپنی نے راس لفان انڈسٹریل سٹی کو تین حملوں سے پہنچنے والے نقصان کا اعلان کیا جس کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر کے ریونیو نقصان کا خدشہ ہے جبکہ مرمت کا تخمینہ پانچ سال تک لگایا گیا ہے۔ ان حملوں میں ٹرین 4 (ایکسون موبیل کے 34 فیصد حصص کے ساتھ مشترکہ منصوبہ) اور ٹرین 6 (ایکسون موبیل کے 30 فیصد حصص کے ساتھ) کو نقصان پہنچا جو سالانہ 12.8 ملین ٹن پیداوار (قطر کی برآمدات کا 17 فیصد) کے ذمہ دار ہیں۔

یہ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا یہ دونوں ٹینکرز موجودہ تنازع کے باعث انتہائی بلند اسپاٹ ریٹس پر حاصل کیے گئے ہیں یا قطر نے 2016 کے معاہدے کے تحت طے شدہ نرخوں پر ایل این جی کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے جس میں قیمت برینٹ کروڈ آئل کا 13.37 فیصد مقرر تھی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ آیا ان دونوں ٹینکرز کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے تحت وضع کیے گئے نئے گورننس میکانزم کی تعمیل لازمی تھی جس میں لازمی ٹرانزٹ پرمٹ کا حصول، پرشین گلف اسٹیٹ اتھارٹی کے ذریعے الیکٹرانک تعمیل اور غیر معاندانہ قرار دیے گئے ٹینکرز کے لیے ممکنہ ٹول ٹیکس شامل ہیں جبکہ معاندانہ قرار دیے گئے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

نجی شعبے کے نامور ماہر کے مطابق پاکستان سستی قطری ایل این جی کی دستیابی کی صورت میں ان دو کارگوز پر مجموعی طور پر 22 سے 50 ملین ڈالر تک کی بچت حاصل کرسکتا ہے جس میں فی کارگو 22 ملین ڈالر کی درآمدی لاگت اور اضافی آپریشنل اخراجات شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ماہر باوثوق مفروضوں کی بنیاد پر یہ رائے دے رہے ہیں یا وہ اس معاہدے کی اصل شرائط سے آگاہ ہیں۔

حالات جو بھی ہوں، حکومتِ پاکستان نے اس تنازع کے اثرات سے مؤثر انداز میں نمٹا ہے اور جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے درست طور پر کہا ہے کہ مؤثر نگرانی، مناسب ذخائر اور ایک بہتر اور کامیاب حکمتِ عملی کے باعث ملک کو تیل کی سپلائی کے کسی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جس میں کفایت شعاری کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر خارجہ پالیسی بھی شامل ہے۔ اس کے برعکس، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک روز قبل بھارتی عوام سے اپیل کی کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ’ورک فرام ہوم‘ کو دوبارہ اپنایا جائے، غیر ملکی سفر محدود کیا جائے اور سونے کی خریداری میں کمی کی جائے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان کو تاحال سپلائی کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، یہ امر اپنی جگہ موجود ہے کہ پٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے جس کے تحت 11 مئی سے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 13.91 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگرچہ خارجہ پالیسی کی حکمتِ عملی کے بعض نتائج سامنے آ رہے ہیں، تاہم انہیں ابھی تک واضح معاشی ثمرات میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ملک اب بھی ان پالیسی چیلنجز سے دوچار ہے جن میں بیرونی قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار، سخت مانیٹری اور مالیاتی پالیسی اور بجلی و ٹیکس کے شعبوں کی مسلسل کمزور کارکردگی شامل ہے، کیونکہ مقامی سطح پر جدید اور تخلیقی حل پیش کرنے کے بجائے زیادہ تر انہی روایتی آئی ایم ایف پالیسی اقدامات پر انحصار کیا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی محدود نتائج دے سکے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026