رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں معیشت 4 فیصد بڑھ گئی، این اے سی
- زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں شرحِ نمو بالترتیب 3.01 فیصد، 4.65 فیصد اور 4.18 فیصد ریکارڈ
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کی تیسری سہ ماہی میں ملکی معیشت میں سالانہ بنیادوں پر 3.99 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں صنعتی شعبہ ترقی کے اہم محرک کے طور پر ابھرا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مرتب کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں مجموعی جی ڈی پی کی شرحِ نمو بالترتیب 3.92 فیصد اور 4.05 فیصد رہی جبکہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے 116ویں اجلاس میں ان کے تخمینے بالترتیب 3.63 فیصد اور 3.89 فیصد لگائے گئے تھے۔
اسی دوران مالی سال 2023-24 اور مالی سال 2024-25 کے لیے شرحِ نمو کی حتمی اور نظرِ ثانی شدہ شرح بالترتیب 2.62 فیصد اور 3.18 فیصد رہی۔
تیسری سہ ماہی کے دوران زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں شرحِ نمو بالترتیب 3.01 فیصد، 4.65 فیصد اور 4.18 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تیسری سہ ماہی کے دوران زراعت کے تمام ذیلی شعبوں میں مثبت نمو ریکارڈ کی گئی جن میں اہم فصلیں (1.10 فیصد)، دیگر فصلیں (2.27 فیصد)، لائیواسٹاک (3.70 فیصد)، جنگلات (1.62 فیصد) اور ماہی گیری (1.37 فیصد) شامل ہیں۔
کان کنی اور کھدائی کے شعبے (منی 2.55 فیصد) اور بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی (منفی 13.53 فیصد) میں کمی کے باوجود صنعتی شعبے نے 4.65 فیصد کی شرح سے ترقی کی جس کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 9.53 فیصد اضافہ ہے۔
تعمیراتی صنعت میں نمو کی شرح معمولی رہی جو 0.48 فیصد ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی میں حاصل ہونے والی 14.27 فیصد کی بلند شرحِ نمو ہے۔
مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی کے دوران خدمات (سروسز) کے شعبے میں مجموعی ترقی 4.18 فیصد رہی، جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔ ان میں ہول سیل اور ریٹیل تجارت (4.13 فیصد)، ٹرانسپورٹیشن اور اسٹوریج (2.02 فیصد)، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن (9.78 فیصد)، فنانس اور انشورنس کی سرگرمیاں (2.90 فیصد)، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی (8.88 فیصد)، تعلیم (4.14 فیصد)، صحت اور سماجی خدمات (4.07 فیصد) اور دیگر نجی خدمات (3.35 فیصد) شامل ہیں۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے جاری مالی سال 2025-26 کے دوران جی ڈی پی کی عارضی شرحِ نمو 3.70 فیصد رہنے کی بھی منظوری دی ہے۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی کی عارضی شرح بالترتیب 2.89 فیصد، 3.51 فیصد اور 4.09 فیصد رہی۔
معیشت کی مجموعی صورتحال
مزید برآں مالی سال 2025-26 کے نیشنل اکاونٹس کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کا کل حجم 126.9 ٹریلین روپے (یعنی 452.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے جبکہ اس سے قبل یہ 114.0 ٹریلین روپے (یعنی 408.2 ارب ڈالر) تھا۔
مزید یہ کہ 2023 کی مردم شماری کے آبادی کے تخمینے کی بنیاد پر فی کس آمدنی 533,629 روپے (یعنی 1,901 ڈالر) ریکارڈ کی گئی ہے۔