پیڈو کا دو پن بجلی منصوبوں کو آئی جی سی ای پی سے نکالنے کے خلاف عدالت سے رجوع
- عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر اور نیپرا کو نوٹس جاری کر دیے ہیں
پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) نے اپنے دو پن بجلی منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35 سے خارج کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
پیڈو نے ایڈووکیٹ عرفان معاور گل کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی منصوبہ بندی کے نظام میں 2021 میں اس وقت اہم آئینی تبدیلی آئی جب پہلی بار آئی جی سی ای پی کو کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کے فیصلے کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ اس سے قبل یہ منصوبہ محض ایک تکنیکی اور مشاورتی دستاویز تصور کیا جاتا تھا۔
درخواست میں کہا گیا کہ سی سی آئی کی مداخلت سے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کے آئینی فریم ورک کے تحت شفافیت، پیش گوئی اور صوبائی منصوبوں کے مساوی سلوک کو یقینی بنایا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
پیڈو کے مطابق سی سی آئی نے 13 ستمبر 2021 کے اجلاس میں بجلی منصوبوں کو منظور شدہ منصوبے اور امیدوار منصوبے کی دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا تھا، جسے آئینی تحفظ حاصل ہے اور کوئی بھی ادارہ اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (157 میگاواٹ) اور گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (88 میگاواٹ) منظور شدہ منصوبے کے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں۔ دونوں منصوبوں کی پی سی ون منظوری یکم اکتوبر 2020 کو ایکنک سے حاصل ہوئی جبکہ مارچ 2021 سے قبل ورلڈ بینک کے تعاون سے رعایتی بین الاقوامی فنانسنگ بھی حاصل کی جا چکی تھی۔
پیڈو نے عدالت سے استدعا کی کہ ان منصوبوں کو آئی جی سی ای پی 2025-35 میں منظور شدہ منصوبے کی فہرست سے نکالنے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیا جائے۔ درخواست میں نیپرا اور آئی ایس ایم او کو ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی کہ دونوں منصوبوں کو حتمی آئی جی سی ای پی میں شامل رکھا جائے، کیونکہ یہ منصوبے سوات میں کم لاگت اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026