امن تجویز پر ایران کا جواب ناقابل قبول ، صدر ٹرمپ
- مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر فی بیرل سے زائد کا اضافہ ریکارڈ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی امن تجویز پر ایران کے جواب کو فوری مسترد کیے جانے کے بعد پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس پیشرفت نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ 10 ہفتوں سے جاری تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت معطل رہنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
امریکی پیشکش کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کی امیدوں کے چند روز بعد ایران نے اتوار کو اپنا جواب جاری کیا جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا، خصوصاً لبنان میں جہاں امریکی اتحادی اسرائیل حزب اللہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ بھی شامل کیا اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری پر زور دیا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ ایران نے امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت دینے، پابندیاں ہٹانے اور ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
چند ہی گھنٹوں میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایران کی تجویز کو مسترد کردیا۔
ٹرمپ نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مجھے یہ پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔
امریکہ نے تجویز پیش کی تھی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر متنازع مسائل پر مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لڑائی کا خاتمہ کیا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے برقرار رہنے اور مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر فی بیرل سے زائد کا اضافہ ہوا۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ تیل کی منڈی اب بھی ایک ایسی جیو پولیٹیکل ہیڈ لائن مشین کے طور پر کام کررہی ہے جہاں واشنگٹن اور تہران کی جانب سے آنے والے ہر تبصرے تردید یا انتباہ کے ساتھ قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے 3 بحری ٹینکرز کا گزر: تناؤ کے بیچ اہم پیشرفت
اگرچہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم کیپلر اور ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ ہفتے خام تیل سے لدے تین ٹینکرز اس بحری راستے سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے ان ٹینکرز نے اپنے ٹریکنگ سسٹم (سگنلز) بند کر رکھے تھے۔
سروے رپورٹس کے مطابق ملک گیر انتخابات میں چھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے جو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں، ایسے میں پٹرولیم قیمتوں میں شدید اضافے کا سامنا کرنے والے امریکی ووٹرز کے درمیان یہ جنگ انتہائی غیر مقبول ہوچکی ہے۔
امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر بھی بہت کم حمایت حاصل ہوئی کیونکہ نیٹو اتحادیوں نے مکمل امن معاہدے اور بین الاقوامی طور پر تفویض کردہ مشن کے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے بحری جہاز بھیجنے کے مطالبات مسترد کردیے ہیں۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میں کون سے نئے سفارتی یا فوجی اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔