دنیا

برطانیہ کا آبنائے ہرمز مشن سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی جانب جنگی بحری جہاز روانہ کرنے کا فیصلہ

  • جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کی پیشگی تعیناتی محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے، تاکہ برطانیہ، فرانس کی مشترکہ قیادت میں ایک کثیرالملکی اتحاد کے تحت حالات سازگار ہونے پر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے، ترجمان وزارتِ دفاع
شائع May 9, 2026 اپ ڈیٹ May 9, 2026 09:18pm

برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے کسی ممکنہ بین الاقوامی مشن سے قبل ایک ڈسٹرائر مشرقِ وسطیٰ بھیجے گا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کی پیشگی تعیناتی محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے، تاکہ برطانیہ، فرانس کی مشترکہ قیادت میں ایک کثیرالملکی اتحاد کے تحت حالات سازگار ہونے پر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

گزشتہ ماہ برطانیہ اور فرانس نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی منصوبے تشکیل پا رہے ہیں اور یہ اقدام اہم بحری راستے سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق ایچ ایم ایس ڈریگن کی تعیناتی تجارتی جہاز رانی کے اعتماد کو بڑھائے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد بارودی سرنگوں کی صفائی کے اقدامات میں معاون ثابت ہوگی۔

اپریل میں لندن میں ہونے والی دو روزہ ملاقات میں 44 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک کثیرالملکی مشن کے عملی پہلوؤں پر غور کیا۔

ذرائع کے مطابق تقریباً 40 ممالک نے اس مشن میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو بحال اور محفوظ بنانا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی اہم آبنائے سے گزرتا تھا۔ تاہم گزشتہ مہینوں میں اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایران نے بڑی حد تک آبنائے کو بند کر دیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پھیلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔

ہفتے کے روز ایران نے خلیجی خطے میں نئی بحری جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے لیے امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوال اٹھائے۔

جمعہ کو پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک امریکی جنگی طیارے نے دو ایرانی پرچم بردار ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا، جن پر واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی حملے کیے گئے۔

یہ کشیدگی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں ہونے والی ایک اور جھڑپ کے بعد سامنے آئی، جہاں ایران غیر ملکی بحری جہازوں سے محصولات وصول کرنے اور امریکہ و اس کے اتحادیوں پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔