ڈیری شعبے کی ترقی کیلئے آسان فنانسنگ اور سرمایہ تک رسائی ضروری ہے، جام کمال خان
- وفاقی وزیر تجارت سے کارپوریٹ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
حکومت پاکستان ڈیری سیکٹر میں ترقی کی راہ ہموار کرنے اور ویلیو ایڈڈ ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بہتر مالیاتی نظام اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرانے پر غور کررہی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ آپریشنز کو وسعت دینے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کیلئے سرمائے تک سستی رسائی انتہائی ناگزیر ہے۔
کارپوریٹ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے ڈیری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی، سرمایہ کاری کی صلاحیت اور مستقبل میں وسعت کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے باقاعدہ ڈیری انڈسٹری کے ساتھ حکومت کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کے ڈیری اور لائیو اسٹاک شعبے میں بے پناہ ترقی کی صلاحیت موجود ہے، ڈیری شعبے کی ترقی کیلئے آسان فنانسنگ اور سرمایہ تک رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر مالی معاونت سے ڈیری مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ اصل مسئلہ پالیسی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد ہے۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ حکومت کاروباری سہولت اور بہتر عملدرآمد کیلئے اقدامات کر رہی ہے، حکومت اور نجی شعبے کا تعاون برآمدات اور فوڈ سکیورٹی کیلئے اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ ڈیری فارمز جدید فارمنگ اور ویٹرنری نظام متعارف کرا رہے ہیں۔
جام کمال خان نے کہا کہ اونٹنی کے دودھ اور لائیو اسٹاک کے نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ جام کمال خان نے کہا پاکستان کے مختلف علاقے اونٹ فارمنگ کیلئے موزوں ہیں۔
وزیر تجارت نے ایسوسی ایشن سے ٹیکس، فنانسنگ، ویکسین اور برآمدات سے متعلق تجاویز طلب کر تے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیری اور لائیو اسٹاک شعبے کی ترقی اور برآمدات کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔
وفد نے بتایا کہ پاکستان میں عالمی معیار کے مطابق دودھ اور ویلیو ایڈڈ ڈیری مصنوعات تیار کی جا رہی ہی، ڈیری شعبہ درآمدی متبادل، روزگار اور فنی مہارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی جدید مہارت سے ڈیری سیکٹر کو فائدہ پہنچا ہے۔