آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.32 ارب ڈالر کی منظوری دے دی
- دونوں ارینجمنٹ کے تحت مجموعی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلیٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے کی منظوری دے دی جس سے پاکستان کو تقریباً 1.32 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔
اس منظوری کا فیصلہ جمعہ کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔
فیصلے کے تحت ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 220 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) فوری طور پر جاری کیے جائیں گے جس کے بعد ان دونوں ارینجمنٹ کے تحت مجموعی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر (3,348 ارب ایس ڈی آر) ہوجائے گی۔
پاکستان کے 37 ماہ کے ای ایف ایف معاہدے کی منظوری 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی جس کا مقصد معیشت میں لچک پیدا کرنا اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے کلیدی ترجیحات میں شامل ہیں:
(i) مستقل بنیادوں پر مؤثر میکرو معاشی پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے معاشی استحکام کو مضبوط بنانا جس میں بین الاقوامی زرمبادلہ ذخائر کی بحالی اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا شامل ہے۔
(ii) مسابقت کو فروغ دینے اور پیداواری صلاحیت و مسابقتی استعداد میں اضافے کیلئے اصلاحاتی اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا۔
(iii) سرکاری اداروں میں مؤثر اصلاحات متعارف کراتے ہوئے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا کر انسانی و مادی سرمائے کو فروغ دینا، توانائی شعبے کی پائیداری کو بحال کرنا اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات کو مزید مؤثر اور تیز تر بنانا۔
آئی ایم ایف کے مطابق 9 مئی 2025 کو منظور کیے گئے 28 ماہ کے آر ایس ایف معاہدے کے تحت اصلاحات ان ترجیحات پر مبنی ہیں:
(i) قدرتی آفات کے خلاف مدافعت (لچک) پیدا کرنا اور حکومت کے تمام سطح پر عوامی سرمایہ کاری کے عمل کو مضبوط بنانا؛
(ii) پانی کے وسائل کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانا، بشمول قیمتوں کے بہتر تعین کے ذریعے؛
(iii) قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا؛
(iv) بینکوں اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے خطرات کی انفارمیشن آرکیٹیکچر اور ان کے ڈسکلوژر کو بہتر بنانا؛ اور
(v) ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے وعدوں کو پورا کرنے اور اس سے وابستہ بڑے پیمانے کے سنگین معاشی خطرات کو کم کرنے kiluy پاکستان کی کوششوں میں تعاون فراہم کرنا۔
آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئرمین نائجل کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ای ایف ایف پروگرام پر مؤثر اور مستقل عملدرآمد کے نتیجے میں معاشی استحکام کو تقویت ملی جبکہ مالیاتی صورتحال اور زرمبادلہ ذخائر کی بحالی میں بھی نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو میں تیزی آئی، مہنگائی قابو میں رہی اور کرنٹ اکاؤنٹ بڑی حد تک متوازن رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے پیدا ہونے والے مشکل اور انتہائی غیر یقینی بیرونی حالات کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مضبوط معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے اور ساتھ ہی اصلاحاتی کوششوں میں تیزی لائے جو مستقبل کے جھٹکوں سے نمٹنے اور درمیانی مدت میں اعلیٰ اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔
مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے پرائمری بیلنس کے اہداف پر قائم رہنے کا حکومتی عزم، مالیاتی پائیداری اور پالیسی کی ساکھ کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
مالیاتی استحکام کو بتدریج مضبوط کرنا (ملکی) مدافعت بڑھانے کیلئے موزوں ہے اور اس کے لیے محصولات (ٹیکسوں) میں اضافے کی مسلسل کوششوں، بشمول ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس کی ادائیگیوں کے نظام (کمپلائنس) میں بہتری اور اخراجات میں کارکردگی اور عوامی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کوششوں سے سماجی امداد، انسانی سرمائے کی ترقی اور پیداواری عوامی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے گنجائش بھی پیدا ہوگی جب کہ ٹیکس پالیسی کی خرابیوں کو بھی دور کیا جا سکے گا۔
کلارک نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کی توقعات کو مستحکم رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی کے موقف کو برقرار رکھنے میں فعال کردار ادا کیا اور اسے ملکی قیمتوں، اجرتوں اور توقعات پر پڑنے والے ممکنہ دوسرے درجے کے اثرات کی احتیاط سے نگرانی جاری رکھنی چاہیے۔ شرحِ مبادلہ میں لچک کو صدمات کے خلاف ایک بنیادی ڈھال (شاک ایبزاربر) کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مارکیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں جس میں درمیانی مدت کے دوران ایک محتاط اور ترتیب وار طریقے سے فارن ایکسچینج کی لبرلائزیشن (آزادانہ تجارت) بھی شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026