تمام آٹو پالیسیز ٹیرف بورڈ میں پیش ہوں گی، نیشنل ٹیرف پالیسی کمیٹی کا فیصلہ
- نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–30 کے تحت اوسط ٹیرف کو 9.7 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر ہے
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ قومی ٹیرف پالیسی (2025–30) پر عملدرآمد کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے تیار کی جانے والی تمام آئندہ پالیسیوں، جن میں آٹو موبائل پالیسی 2026–31 بھی شامل ہے، کو اب ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کی صدارت وزیر تجارت کرتے ہیں۔
وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزارت صنعت و پیداوار اور آٹو انڈسٹری کے درمیان مجوزہ ٹیرف ڈھانچے پر ڈیڈ لاک کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم نے کمیٹی کو بتایا کہ آٹو موبائل پالیسی 2026–31 کی تیاری جاری ہے اور اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی تجاویز شامل کی جا سکیں۔
وزارت تجارت اس کے ساتھ ساتھ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی اور پاکستان کی نئی جنریشن انرجی اسٹوریج پالیسی پر بھی کام کر رہی ہے۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد ان پالیسیوں کے ٹیرف ڈھانچے ٹیرف پالیسی بورڈ میں پیش کیے جائیں گے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–30 کے تحت اوسط ٹیرف کو 9.7 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر ہے، جبکہ ریگولیٹری ڈیوٹیز (آر ڈیز) اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز (اے سی ڈیز) کو مرحلہ وار ختم کر کے صفر فیصد تک لایا جائے گا۔ تاہم پالیسی میں ٹریڈ ویٹڈ اوسط ٹیرف کو 6 فیصد سے کم کرنے کی کوئی واضح شق شامل نہیں اور نہ ہی یہ آئی ایم ایف سے طے شدہ ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ آٹو سیکٹر سے متعلق ایس آر اوز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ اجلاس میں الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کو نئی آٹو پالیسی کا حصہ بنانے کی بھی تصدیق کی گئی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کا فوکس صرف سادہ اوسط ٹیرف میں کمی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق آٹو سیکٹر میں آر ڈیز کو 80 فیصد تک کم کیا جانا ہے، تاہم پالیسی کے مطابق 2030 تک انہیں مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
اجلاس میں یہ بھی رائے دی گئی کہ محدود لچک برقرار رکھی جائے تاکہ مشکلات کا شکار صنعتوں کو تحفظ مل سکے، تاہم مجموعی طور پر آئی ایم ایف کی شرائط اور پالیسی اہداف پر عمل ضروری ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ ٹیرف اصلاحات کے اثرات برآمدات اور معیشت پر طویل مدت میں ظاہر ہوں گے، جبکہ قلیل مدت میں مکمل نتائج سامنے نہیں آ سکتے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026