بدلتی ہوئی عالمی بساط، ایک نیا نظام
- ناقابلِ تسخیر ہونے کے وہم کی شکست اور مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں پرانے عالمی تعلقات کا زوال ایک نئے اور ہمہ گیر عالمی نظام کے ظہور کی نوید دے رہا ہے
دنیا جیسی کہ 2025 اور حال ہی میں فروری 2026 تک موجود تھی اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے، اب یہ منظرنامہ یک قطبی نہیں رہا۔
ایران پر مسلط کردہ امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز سے ہی ظلم کے خلاف ایک ایسی نئی اور ناقابلِ تصور مزاحمت دیکھی جا رہی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ تبدیلی نہایت گہری ہے اور اس کی رفتار نے دنیا کے بیشتر بڑے دارالحکومتوں کو ششدر کر دیا ہے۔ وہ سب کچھ ہو چکا ہے جو کبھی ناقابلِ تصور اور غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔ ناقابلِ تسخیر ہونے کے تمام تر دعوے اب اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔
ناقابل تسخیر اور ناقابلِ شکست ہونے کے وہم اب ختم ہو چکے اور ان کی جگہ مایوسی کے ایک بڑھتے ہوئے احساس نے لے لی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور خطے سے باہر کی عالمی طاقتوں کے درمیان مشترکہ مفادات پرمبنی جو دہائیوں پرانے تعلقات تھے وہ اب شدید گراوٹ کا شکار ہیں۔ اعتماد کی جگہ اب ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ مفادات کی مفاہمت کو اب اسٹریٹیجک نظرثانی کا سامنا ہے۔ کمزوروں کی طاقت نے اب ان طاقتوروں کے قلعوں پر پورے انتقام کے ساتھ وار کیا ہے جنہیں عالمی سطح پر مانا جاتا تھا۔
اقتصادی عالمگیریت کے خطرات نے ہر سطح پر لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آج کوئی بھی قوم یا معاشرہ دنیا میں ہونے والے واقعات سے محفوظ نہیں ہے چاہے وہ امن ہو یا جنگ ہو۔
اپنے ملک کو (دوبارہ) عظیم بنانے کے محب وطن نعروں کو بہت پذیرائی ملی۔ دنیا نے مشکل طریقے سے یہ سبق سیکھا ہے کہ سیاسی اور معاشی باہمی انحصار ضروری نہیں کہ عالمی امن کا ماحول پیدا کرے۔ اس کے بجائے اس نے باہمی ربط کی اس پوری صلاحیت کو ظاہر کر دیا ہے جسے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محصولات پر لفظی جنگ وقت کے ساتھ مدہم پڑ گئی اور جذبات حقیقت کی شرائط کے مطابق ٹھنڈے پڑ گئے۔ اب یہ ناگزیر احساس پیدا ہو چکا ہے کہ عالمی طاقتوں سمیت زیادہ تر معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ کوئی بھی ملک عالمی ماحول سے محفوظ رہ کر الگ ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کا مشترکہ دشمن بھی موجود ہے، جس پر انفرادی اور اجتماعی توجہ کی ضرورت ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق ان حالات کا جواب دے رہا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری اور کمیونزم کے درمیان جنگ یا دوسرے لفظوں میں آزاد انٹرپرائز اور منیجڈ اکانومی کے درمیان مقابلے نے دو الگ الگ کیمپوں کو جنم دیا جو نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف رہے۔ اس وقت کی دو سپر پاورز نے اس نظام کی قیادت کی اور غریب ممالک کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ کس کیمپ کے ساتھ وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔ مغرب اس خدشے میں مبتلا تھا کہ کمیونزم آزاد انٹرپرائز کی جگہ لے لے گا۔ سوویت یونین اور اس کے اتحادی ممالک مشرقی ایشیا میں ابھرتے ہوئے چین کے ساتھ مل کر معیشت کے سوشلسٹ ماڈل کے ہراول دستہ بن گئے۔ اس بلاک کا مقصد مغربی جمہوریت کے سیاسی نظریات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی نظام کو ناکام بنانا تھا۔ یہ بحث جاری رہی اور سرد جنگ اپنی دبی ہوئی شکل میں اب بھی جاری ہے۔
آزاد دنیا نے کمیونزم اور سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سیاسی اور معاشی اتحاد بنائے۔ اس سے سینٹو اور سیٹو جیسی تنظیموں نے جنم لیا، یہ دونوں تنظیمیں کوریا اور ویتنام کی جنگوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے تاریخ کے قبرستان میں جا سوئیں۔ سوویت یونین سے خطرہ محسوس کرنے والے یورپی ممالک نے امریکہ کی فعال شرکت کے ساتھ انضمام کی راہ اپنائی اور 4 اپریل 1949 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیٹو وجود میں آیا۔
نئی ہزاریہ کے آغاز سے ہی عالمی نقشہ اور سیاسی ڈھانچہ اس حد تک تبدیل ہو چکا ہے کہ اسے 1950 سے لے کر 1989 میں دیوارِ برلن کے گرنے تک کے پرانے نظام کے تناظر میں پہچاننا مشکل ہے۔ اس تبدیلی کا عروج سوویت یونین کا 13 آزاد ریاستوں میں بکھرنا تھا، جسے مغرب شیطانی سلطنت کہتا تھا۔ یہ تبدیلی نہایت تیز رفتار تھی۔
ڈاکٹر ہنری کسنجر اپنی کتاب کیا امریکہ کو خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے؟ میں لکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کی آخری دہائی کے دوران امریکہ کی برتر پوزیشن نے اسے بین الاقوامی استحکام کا ایک ناگزیر جزو بنا دیا تھا۔ اس نے کلیدی تنازعات میں ثالثی کی، یہاں تک کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ امن عمل کا ایک لازمی حصہ بن گیا تھا۔
9/11 کے المناک واقعے نے امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسی متعارف کرائی۔ اقوامِ متحدہ کی پرواہ کیے بغیر اس نے ان تمام ممالک پر حملہ کر دیا جن پر نیویارک کے ورلڈ ٹاورز پر حملے کا شبہ تھا۔ سفارتی ذرائع ان کارروائیوں کی شدت کے سامنے بے بس ہو گئے۔
یوکرین نے 1994 میں ایک پارٹنر کے طور پر نیٹو میں شمولیت اختیار کی اور اس کی مکمل رکنیت کی درخواست طویل عرصے سے زیرِ التوا ہے لیکن جو کچھ بھی ہوا ہے اس سے یہ واضح ہے کہ مکمل رکنیت کے لیے اس کی تڑپ اب ناقابلِ واپسی ہے۔
روس نے 2014 میں بڑی آسانی سے کریمیا پر حملہ کیا اور اسے ضم کر لیا۔ اس پر بہت شور مچا لیکن متاثرین کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ حوصلہ پا کر روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کر دیا۔ یہ میدانِ جنگ اب بھی گرم ہے اور روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ آج عالمی طاقتیں ایک امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں جو اب بھی مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، کینیڈی کے سوویت یونین کے خلاف بے آف پگز بحران کے ردعمل کا موازنہ یوکرین میں روسی مہم جوئی پر آج کے ردعمل سے کریں تو ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔
نیٹو کے یورپی ممالک کا ایران کے خلاف جنگ میں شرکت سے صاف انکار دراصل اس جنگ میں شامل نہ ہونے کی خواہش ہے، جس کی ترغیب اسرائیل نے دی ہے۔ اطالوی وزیرِ اعظم نے درست کہا کہ وہ ایسی جنگ میں شامل نہیں ہو سکتیں جہاں خواتین اور بچوں کا بے رحمی سے قتلِ عام کیا جا رہا ہو۔
بینجمن نیتن یاہو نے سیاسی جنون میں مبتلا ہو کر جون 2025 میں کسی اشتعال کے بغیر ایران پر حملہ کیا۔ یہ جنگ بارہ دن جاری رہی۔ ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی لہر کے ساتھ ایسا بھرپور جواب دیا، جس نے اسرائیل کی ضد کو توڑ کر رکھ دیا، بالآخر امریکہ کی ثالثی میں امن ہوا، حالانکہ امریکہ نے بھی 22 جون کو ایران پر بمباری میں حصہ لیا تھا۔ عالمی جغرافیائی حالات کی اس تبدیلی نے خطے میں ایک اسٹریٹیجک ری سیٹ کا مطالبہ کیا۔
تبدیلی کی اس لہر کو معاشی تحفظات نے مہمیز دی ہے۔ برکس کی تشکیل کو امریکہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ایک مشترکہ کرنسی بنانے کی ان کی تگ و دو اور اس وقت تک امریکی ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں تجارت کی خواہش واشنگٹن کو بے چین کرتی ہے۔ اول تو عالمی سطح پر ڈالر پر اعتماد اور دوم اس اعتماد کی وجہ سے ڈالر کی عالمی مانگ امریکی ڈالر کو استحکام فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا اس توازن کو بگاڑنے کی کوئی بھی کوشش امریکہ کو برہم کرتی ہے۔ تیل کی تجارت میں ڈالر کا غلبہ پہلے ہی کم ہو رہا ہے، حال ہی میں کچھ لین دین چینی یوآن میں طے پایا ہے۔
امریکہ کی مشکلات میں اضافہ عوامی جمہوریہ چین کا بڑھتا ہوا معاشی اثر و رسوخ ہے۔ ان دونوں کے درمیان تجارتی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں الگ نہیں کیا جا سکتا؛ باہمی انحصار بہت زیادہ ہے۔ اس نے مستقبل کے نئے عالمی نظام کی تشکیل میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔ واحد سپر پاور کو اب سیاسی اور معاشی طور پر چیلنج کا سامنا ہے۔
نریندر مودی جو نیتن یاہو کے اشاروں پرناچنے کے لیے تیار نظر آئے، انہوں نے ایران پر حملے سے چند روز قبل تل ابیب کا دورہ کیا۔ اس عمل میں انہوں نے ایران کے ساتھ برسوں پرانی دوستی جو بھارت کو رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کر رہا تھا کے بجائے اپنے سینے پر اسرائیلی تمغہ سجانے کو ترجیح دی۔ مودی نے ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، جس نے یقیناً اس سے ایک تلخ سبق سیکھا ہوگا۔ ایران میں رہنے والے کئی بھارتیوں کا موساد کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے جانا ایران کے لیے ایک تکلیف دہ حقیقت ہوگی۔ ایران نے بھارت پر غیر دانشمندانہ بھروسہ کیا۔ دنیا بدل چکی ہے، تل ابیب اور نئی دہلی کے درمیان بدی کا ایک نیا محور ابھرا ہے۔
نیتن یاہو کی ایما پر امریکہ کا ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ انتہائی نادانی تھا۔ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکہ دیا اور انہیں غلط راستے پر لگایا۔ روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای اور قیادت کے دیگر سینئر ارکان کی شہادت کے باوجود ایرانی ردعمل نہایت تیز تھا۔ ایران کوئی بے جان قوم نہیں ہے۔ فروری سے دکھائی گئی اس کی مزاحمت حملہ آوروں کے لیے ایک گہرا زخم ہے۔ امریکی قیادت نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ 5000 سال پرانی تہذیب کیا صلاحیت رکھتی ہے، ایران کوئی تر نوالہ نہیں تھا۔
ایران کے بارے میں ڈاکٹر کسنجر کی ماہرانہ رائے کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ دنیا میں ایسے بہت کم ممالک ہیں جن کے ساتھ امریکہ کے پاس جھگڑے کی وجوہات کم اور ہم آہنگ مفادات زیادہ ہوں، جیسا کہ ایران ہے‘’مزید برآں وہ کہتے ہیں ’’امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کی کوئی امریکی جیو پولیٹیکل وجہ نہیں ہے۔ ایران خلیج اور اسلامی دنیا میں ایک اہم اور بعض حالات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے مقدر ہے۔ ایک سمجھدار امریکی حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اہمیت پر کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو نیتن یاہو کے بہکاوے میں آنے کے بجائے ڈاکٹر کسنجر کے ان نوٹس پر غور کرنا چاہیے۔ دنیا بدل چکی ہے۔
روس اور چین کا کردار علامتی ہے۔ انہوں نے اخلاقی، سفارتی اور مادی مدد کے ساتھ مضبوطی سے ایران کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر ابھرتی ہوئی حقیقتوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ وہ خاموش ہیں لیکن اس موجودہ کشیدگی کے نتائج مرتب کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں جس میں پہلے ہی اربوں ڈالرز کی مشینری اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔
پاکستان اہم دارالحکومتوں کے درمیان سفارت کاری کی انتہائی باریک رسی پر چلتے ہوئے اب تک سمجھداری سے آگے بڑھا ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مثبت نتیجہ نکلنے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے جس نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ ریاض کے ساتھ مشترکہ دفاعی اسٹریٹیجک اتحاد کا بروقت نفاذ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ عالمی طاقتوں کی منظوری سے ایک جوہری طاقت کے حامل پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرنا ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ ایک فوجی اتحاد یا باہمی تعاون کا معاہدہ بھی اب ممکن ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ترتیب ہے۔
کسی بھی قسم کی یا کسی بھی ملک کی ناقابلِ تسخیریت اب تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو چکی ہے۔ خطے کو لیڈر کی ضرورت ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر قیادت کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔
عالمی سطح پر معاشیات اور سیاست تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے۔ ہمیں ذہانت، تدبر اور سب سے بڑھ کر حکمت کے ساتھ اس لمحے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔