کاروبار اور معیشت

100 انڈیکس میں 4 فیصد سے زائد اضافہ، امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی امیدوں پر مارکیٹ میں زبردست تیزی

  • بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6,962.29 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 171,704.75 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان بنا جس میں انہوں نے منگل کے روز کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے جاری فوجی آپریشن عارضی طور پر روک دیا ہے، تاکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم ہو سکے۔

مارکیٹ نے دن کے آغاز میں نسبتاً محتاط اور مستحکم رویہ اپنایا، جہاں ابتدائی اوقات میں معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک محدود دائرے میں حرکت کرتا رہا۔

تاہم دوپہر کے بعد سرمایہ کاروں کے رجحانات میں واضح بہتری آئی اور مارکیٹ کا رجحان یکدم مثبت ہو گیا۔ دوپہر کے بعد انڈیکس مسلسل اوپر کی جانب بڑھتا رہا اور دورانِ ٹریڈنگ 172,088.58 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

اگرچہ اختتامی لمحات میں معمولی منافع خوری دیکھی گئی، تاہم انڈیکس نے اپنی زیادہ تر پیش رفت برقرار رکھی اور سیشن کی بلند ترین سطح کے قریب ہی بند ہوا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 171,704.75 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 6,962.28 پوائنٹس یا 4.23 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں یہ تیزی اس وقت آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے ممکنہ معاہدے کے اشارے نے آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی اور سرمایہ کاروں کے رجحانات یکسر مثبت ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق کاروباری دن کے دوران تیزی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بیان دیتے ہوئے ٹرمپ کی قیادت اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو سراہا، جس سے مثبت رجحانات کو مزید تقویت ملی اور مارکیٹ میں جاری تیزی میں مزید اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ہونے والے اتار چڑھاؤ کو پیچھے چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ مثبت زون میں بند ہوئی۔

اسی دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے بھی مارکیٹ کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔ اس کمی نے بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور مہنگائی کے خدشات میں کمی پیدا کی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بحال ہوا۔

رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے سائیکلیکل حصص میں سرگرمی کو بڑھایا اور خریداری کے رجحان کو تقویت دے کر مارکیٹ کی اوپر کی جانب حرکت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس میں نمایاں کردار ادا کرنے والی بڑی کمپنیوں میں یو بی ایل، لکی سیمنٹ، ایف ایف سی، پی پی ایل، او جی ڈی سی اور اینگرو ہولڈنگز شامل تھیں، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,920 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

دوسری جانب ایک اہم پیش رفت میں امریکی ذرائع نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے، جس کے تحت ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت نامے (ایم او یو) کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ”ایکسئوس“ کے مطابق بدھ کے روز دو امریکی حکام اور دو دیگر باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ پیش رفت حتمی معاہدے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔

منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار رہا اور مارکیٹ مزید اضافہ ظاہر کرتے ہوئے بلند سطح پر بند ہوئی۔ یہ رجحان ابتدائی طور پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے باعث پیدا ہونے والی مثبت فضا سے تقویت پاتا رہا۔

منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 793.53 پوائنٹس یا 0.48 فیصد اضافے سے 164,742.47 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بدھ کی ایشیائی صبح میں اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، تیل کی قیمتیں گر گئیں اور امریکی ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ “حتمی معاہدے” کی جانب “نمایاں پیش رفت” کا دعویٰ کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاری پر مبنی ٹریڈنگ میں بھی رفتار مزید تیز ہو گئی۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جاری ایک آپریشن کو عارضی طور پر روک رہے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے تقریباً عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، اور جسے فروری کے آخر سے ایران نے بند کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی بحران جنم لے چکا تھا۔

ان خبروں کے بعد برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.2 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 108.51 ڈالر فی بیرل تک آ گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک (جاپان کے علاوہ) حصص کا وسیع ترین انڈیکس 2.3 فیصد بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کی مارکیٹ نے کی جہاں کے او ایس پی آئی (کوسپی) انڈیکس 5.1 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 7,000 کی سطح عبور کر گیا۔

دوسری جانب امریکی وال اسٹریٹ پر بھی منگل کے روز ریکارڈ سطحیں دیکھی گئیں، جہاں ایس اینڈ پی 500 میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزیٹ میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.72 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

مارکیٹ میں مجموعی سرگرمی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں آل شیئر انڈیکس کا تجارتی حجم بڑھ کر 1,202.17 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ روز یہ 453.22 ملین شیئرز تھا۔

حصص کی مجموعی مالیت بھی بڑھ کر 63.00 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 22.78 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

کاروباری سرگرمی کے لحاظ سے ہیسکول پیٹرول 103.47 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد کے-الیکٹرک لمیٹڈ 80.51 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب 68.05 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر نمایاں رہے۔

بدھ کے روز مجموعی طور پر 489 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 395 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 67 کے شیئرز میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 27 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہیں۔