کاروبار اور معیشت

اوور فشنگ کی روک تھام اور ٹونا مچھلی کی برآمدات سے 20 کروڑ ڈالر کمانے کا ہدف مقرر

  • ملک میں سالانہ 45 ہزار ٹن سے زائد ٹونا مچھلی پکڑی جاتی ہے لیکن باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ قومی معیشت میں مکمل طور پر شامل نہیں ہو پاتی، وفاقی وزیر
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرسمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں ٹونا مچھلی کے قانونی شکار کو فروغ دینے اور بے جا ماہی گیری (اوور فشنگ) کو روکنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔

ورلڈ ٹونا ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار انڈین اوشین ٹونا کمیشن سے 25 ہزار میٹرک ٹن کا کوٹہ حاصل کیا ہے، جس سے ملکی برآمدات میں 200 ملین ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان میں سالانہ 45 ہزار ٹن سے زائد ٹونا مچھلی پکڑی جاتی ہے لیکن باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ قومی معیشت میں مکمل طور پر شامل نہیں ہو پاتی۔ حکومت اب ’نیشنل فشریز پالیسی‘ کے تحت مچھلی کے شکار کے پرانے اور نقصان دہ طریقوں کو ختم کر کے جدید تکنیک متعارف کروا رہی ہے، تاکہ سمندری حیات کو تحفظ مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورنگی فش ہاربر جیسے منصوبوں کی بہتری سے پاکستانی مچھلی کی یورپی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائے گی، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026