پاکستان

دفتر خارجہ نے برطانوی نمائندہ خصوصی افغانستان کے بیانات کو یکطرفہ اور حقائق سے لاعلمی پر مبنی قرار دے دیا

  • دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نوعیت کے غیر ضروری ریمارکس متوازن اور معروضی نقطۂ نظر فراہم نہیں کرتے، طاہر اندرابی
شائع اپ ڈیٹ

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتے کے روز برطانوی اسپیشل ریپریزنٹیٹو فار افغانستان ( ایس آر اے ) کی سوشل میڈیا پوسٹ کو سرحدی صورتحال کی گہری سمجھ کے بغیر یکطرفہ ریمارکس قرار دیا ہے۔

میڈیا سوالات کے جواب میں جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو برطانوی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان(ایس آر اے) کی جانب سے پاکستان اور افغانستان سرحدی صورتحال سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا علم ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نوعیت کے غیر ضروری ریمارکس متوازن اور معروضی نقطۂ نظر فراہم نہیں کرتے۔

ترجمان نے علاقائی حالات کی بہتر تفہیم، پاکستان کے اصولی مؤقف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی بے مثال قربانیوں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پار جارحیت اور دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں پاکستان کی جانب سے رواں سال مارچ میں اعلان کردہ نیک نیتی کے تحت عارضی توقف کے باوجود بدستور جاری ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس کے بعد سے افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال اور اندھا دھند سرحد پار حملوں اور پاکستان کے اندر افغان طالبان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز کی دہشت گرد سرگرمیوں کے نتیجے میں 52 شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر جواب دیا اور افغان طالبان کی چوکیوں اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو درست نشانہ بنایا، جبکہ سرحد پار سے ہونے والی متعدد دراندازی کی کوششوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان کے اس دعوے کہ پاکستان کے جوابی اقدامات سے شہری ہلاکتیں ہوئیں، کسی قابلِ اعتبار شواہد پر مبنی نہیں ہیں۔