پاکستان میں بجلی شارٹ فال کا 11 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرجانا ایک بار پھر اس شعبے کی پرانی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے: یعنی بجلی کی پیداوار میں تو توسیع ہوئی ہے لیکن ترسیل، تقسیم اور نظامی انتظام اتنا مضبوط نہیں ہوسکا کہ اس بوجھ کو سنبھال سکے۔ حالیہ بحران کی وجہ زیرو آر ایل این جی سپلائی، پلانٹس کی بندش اور اضافی بجلی کو گرڈ کے ذریعے منتقل کرنے میں رکاوٹیں بنی ہیں، تاہم اصل اور گہری خرابی ایک دہائی سے بھی پرانی ہے۔

پچھلے 11 سے 12 سال سے پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی اصلاح، ترسیلی رکاوٹوں کو دور کیے بغیر اور خسارے میں چلنے والے فیڈرز کو ٹھیک کیے بغیر صرف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا بحران کو محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 46 ہزار میگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت موجود ہے لیکن اصل دستیاب صلاحیت اس سے کہیں کم ہے کیونکہ اہم پاور پلانٹس بند ہیں، ایندھن دستیاب نہیں ہے اور گرڈ سسٹم میں اتنی سکت نہیں کہ وہ بجلی کو وہاں منتقل کرسکے جہاں اس کی ضرورت ہے۔

یہ عدم توازن اتفاقاً پیدا نہیں ہوا۔ بجلی کی پیداوار کے منصوبوں نے بھرپور توجہ، فنڈز اور سیاسی سرپرستی حاصل کی۔ اس کے برعکس، تقسیم کے نظام میں اصلاحات، لائن لاسز میں کمی اور فیڈر کی سطح پر جوابدہی کا عمل سست رہا، کیونکہ یہ کام نہ تو زیادہ پرکشش تھے اور نہ ہی انتظامی طور پر آسان۔ اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے: بجلی پیدا کرنے کی مہنگی صلاحیت تو موجود ہے لیکن صارفین اب بھی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں اور گردشی قرضے کا مسئلہ بدستور نظام کا حصہ بنا ہوا ہے۔

موجودہ شارٹ فال یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جب کسی ایک ایندھن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو نظام کس حد تک کمزور ہو جاتا ہے۔ تقریباً 5,500 میگاواٹ صلاحیت کے آر ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث بند پڑے ہیں۔ نیلم جہلم منصوبہ بھی تاحال بند ہے، گڈو پاور پلانٹ مکمل صلاحیت سے کم پر چل رہا ہے جبکہ صوبائی سطح پر پانی کے کم اخراج کے باعث ہائیڈل پیداوار بھی محدود ہے۔ اسی طرح ترسیلی نظام کی حدود بھی وسطی پنجاب میں طویل لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہیں۔

حکومت کی جانب سے رات کے اوقات میں بجلی کی بچت کی اپیل فوری حالات میں مناسب ہے۔ جب تک ایندھن کی سپلائی میں دباؤ برقرار ہے، صارفین اور کاروباری اداروں کو اپنے استعمال میں ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی۔ تاہم صرف بچت کی اپیلیں نظامی نااہلی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ اتنا بڑا نظام محض ہنگامی اپیلوں کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا کہ جب بھی ایندھن کی منڈیوں میں بحران آئے یا کسی بڑے پاور پلانٹ میں خرابی پیدا ہو، تو عوام سے قربانی مانگی جائے۔

زیادہ تشویشناک مسئلہ ادارہ جاتی صلاحیت کا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس شعبے میں بھی وہی انتظامی عادات اور اکثر وہی بیوروکریٹک طرزِ فکر اپنایا ہے ، حالانکہ یہ ایسا شعبہ ہے جس میں تکنیکی مہارت، تجارتی نظم و ضبط اور فوری آپریشنل فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی اس سے مختلف نظر نہیں آتی۔ پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں مسلسل عدم ہم آہنگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں مطلوبہ تکنیکی مہارت ابھی تک مؤثر طور پر شامل نہیں ہوسکی۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اس زنجیر کی سب سے کمزور کڑی بنی ہوئی ہیں۔ زیادہ نقصانات، وصولی کی ابتر صورتحال، ناقص گورننس اور سیاسی مداخلت اس شعبے کو مسلسل کھوکھلا کررہی ہے۔ زیادہ نقصان والے فیڈرز پر معاشی بنیادوں پر لوڈ مینجمنٹ شاید ناگزیر ہو لیکن یہ بلنگ، قانون کے نفاذ اور تقسیم کی کارکردگی میں بنیادی ناکامیوں کے تسلسل کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ جب تک ان مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، ایندھن یا سپلائی کا ہر جھٹکا اسی طرح کے نتائج پیدا کرتا رہے گا۔

پاکستان میں بجلی کے شعبے سے متعلق رپورٹس، تخمینوں یا اصلاحاتی منصوبوں کی کوئی کمی نہیں ہے، کمی ہے تو صرف ان پر عملدرآمد کی۔ 2035 تک کی طلب کے منظرنامے پہلے ہی ظاہر کرچکے ہیں کہ اگر ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ اور گرڈ کی مضبوطی کے بغیر بجلی کی ضرورت اسی طرح بڑھتی رہی تو یہ چیلنج کتنا سنگین ہو جائے گا۔ ایک مستحکم نظام اور تباہ ہوتے نظام کے درمیان فرق کا دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ اصلاحات اگلے بحران کے آنے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے نافذ کی جاتی ہیں یا نہیں۔

فوری ترجیح ایندھن کی فراہمی بحال کرنا، بند پڑے پاور پلانٹس کو دوبارہ فعال کرنا اور ترسیلی نظام کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے لیکن مستقل حل ڈسکوز کی اصلاح، نقصانات میں کمی، گرڈ کی صلاحیت میں اضافے اور ایسے پیشہ ور افراد کی تعیناتی میں ہے جو فائلوں اور بریفنگز سے ہٹ کر اس شعبے کی تکنیکی باریکیوں کو سمجھتے ہوں۔

ملک ادھوری اصلاحات کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ جب گھرانے اور صنعتیں قابلِ بھروسہ بجلی سے محروم ہوں تو انسٹالڈ کیپسٹی کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ پاور سیکٹر کو اب افسر شاہی کی روایتی وضاحتوں کی نہیں بلکہ باصلاحیت عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026