اداریہ

پرانی تشخیص، ادھورا علاج

پاکستان کی جانب سے مواقع کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں مسلسل ناکامی اب بیرونی رکاوٹوں کا سوال نہیں رہی، بلکہ یہ...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی مسلسل ناکامی کہ وہ مواقع کو سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں کر پا رہا، اب صرف بیرونی رکاوٹوں کا مسئلہ نہیں رہا، یہ دراصل اندرونی طرزِ حکمرانی کی عکاسی ہے جو بارہا انتباہات کے باوجود اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتی رہی ہے۔

تازہ ترین جائزہ جس کی نشاندہی صنعتی نمائندوں اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں سے متعلق حالیہ رپورٹس میں کی گئی ہے، ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کمزور رابطہ و ہم آہنگی، قواعد و ضوابط کی غیر یقینی صورتحال، اور گہری بیوروکریٹک سست روی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی بات نئی نہیں ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ (اس صورتحال میں) کس قدر کم تبدیلی آئی ہے۔

ساختی مسائل دہائیوں سے دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ مقامی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کار ایک ایسے نظام کا سامنا کرتے ہیں جہاں پالیسیاں سیاسی ادوار کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں، منظوریوں میں انتظامی سطح پر تاخیر ہوتی ہے اور احتساب بکھرا ہوا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں سرمایہ ہمیشہ وہی کرتا ہے جو وہ ہمیشہ کرتا آیا ہے، وہ قابلِ پیش گوئی حالات تلاش کرتا ہے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، منڈی کے حجم اور نوجوان آبادی جیسے فوائد کے باوجود اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔

اعدادوشمار اس نکتے کی مزید تائید کرتے ہیں۔ سال 2025 میں عالمی سطح پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا، اس کے باوجود پاکستان میں سرمایہ کاری کی آمد معمولی رہی۔ مالی سال 2025 میں صرف 1.746 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے جب کہ مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں یہ صورتحال مزید کمزور رہی اور صرف 410.7 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ یہ اعداد و شمار عالمی تنہائی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک مسابقتی ماحول میں نسبتاً کم کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں جہاں دیگر ممالک نے قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک تشکیل دینے میں زیادہ تیزی دکھائی ہے۔

مسئلے کی جڑ میں گورننس کی تقسیم اور بکھراؤ ہے۔ پاکستان میں معاشی نظم و نسق وفاقی اور صوبائی سطح پر تقسیم ہے، لیکن ایسا مربوط رابطہ موجود نہیں جو ایک متحدہ پالیسی ماحول فراہم کر سکے۔ اس ڈھانچے میں سرمایہ کار جب نظام سے گزرتے ہیں تو انہیں متوازی دائرہ اختیار، متضاد ضوابط اور غیر یکساں نفاذ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر سطح ایک اضافی رکاوٹ پیدا کرتی ہے اور مجموعی طور پر یہ نظام طویل المدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

بیوروکریسی اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ انتظامی عمل عموماً سست، غیر شفاف اور تبدیلی کے خلاف مزاحم ہوتا ہے۔ اصلاحات جب بھی متعارف کرائی جاتی ہیں تو ابتدائی اعلانات کے بعد عملی سطح پر ان کی رفتار برقرار نہیں رہتی۔ بلاشبہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا تذکرہ سرخ فیتہ شاہی کو کم کرنے کی جانب ایک قدم کے طور پر کیا گیا ہے، تاہم اس کا اثر اب تک محدود پیمانے پر ہی نظر آتا ہے۔ مسلسل فالو اپ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بغیر ایسی کوششیں محض جزوی حلوں کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ بننے کا خطرہ رکھتی ہیں۔

پالیسیوں کا عدم تسلسل بھی (پاکستانی معیشت کی) ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کا ریگولیٹری ڈھانچے پر نظرِ ثانی اور ان میں ترمیم کرنے کا رجحان پالیسیوں کے تسلسل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کے پورے دورانیے کے لیے واضح صورتحال درکار ہوتی ہے، نہ کہ صرف آغاز کے وقت۔ جب ہر سیاسی تبدیلی کے ساتھ قوانین بدلنے لگتے ہیں تو اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک ایسے شہرت کے خطرے کو جنم دیتا ہے جس کی تلافی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

غیر دستاویزی یا غیر رسمی معیشت اس صورتحال میں پیچیدگی کی ایک اور تہہ کا اضافہ کر دیتی ہے۔ معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ رسمی نظام سے باہر ہونے کی وجہ سے ریاست کی مالیاتی صلاحیت محدود رہتی ہے۔ یہ صورتحال ریاست کی بنیادی ڈھانچے، ریگولیٹری بہتری اور اداروں کی مضبوطی میں سرمایہ کاری کرنے کی طاقت کو کم کر دیتی ہے۔ نتیجہ ایک ایسے چکر کی صورت میں نکلتا ہے جہاں کمزور طرزِ حکمرانی دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور محدود دستاویزی معیشت بدلے میں حکومتی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔

بین الاقوامی معیار ان ساختی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بدعنوانی کے تصور اور معاشی آزادی سے متعلق عالمی رینکنگ میں پاکستان ان پوزیشنوں پر ہے جو موقع کے بجائے خطرے کا اشارہ دیتی ہیں۔ یہ اشاریے تنہائی میں کام نہیں کرتے بلکہ یہ سرمایہ کاروں کے تصورات کو تشکیل دیتے ہیں اور سرمائے کی تقسیم کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال کو جو چیز مزید اہمیت کا حامل بناتی ہے وہ تیزی سے بدلتا ہوا عالمی تناظر ہے۔ سپلائی چینز کو دوبارہ ترتیب دیا جارہا ہے، علاقائی تجارتی راستے تبدیل ہو رہے ہیں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال ان ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کررہی ہے جو ان کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نظریاتی طور پر پاکستان ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ تاہم عملی طور پر یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر بنیادی انتظامی مسائل حل نہ کیے گئے تو پاکستان ان مواقع سے فائدہ اٹھائے بغیر ایک طرف کھڑا رہ جائے گا۔

کاروباری برادری کا پیغام ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ مستحکم ضوابط، واضح جوابدہی اور مؤثر ہم آہنگی کوئی بلند بانگ مقاصد نہیں بلکہ یہ معاشی ساکھ کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔ اس کے باوجود حکومتی ردِعمل اس معیار سے کم ہی رہا ہے۔ اعلانات کیے جاتے ہیں، کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور حکمتِ عملی کے مسودے تیار کیے جاتے ہیں لیکن عملدرآمد ہمیشہ غیر متوازن رہتا ہے۔

پہچان (مسائل کے ادراک) اور عملدرآمد کے درمیان یہ خلیج اب پاکستان کے معاشی انتظام کی ایک مستقل پہچان بن چکی ہے۔ ہر چکر کا آغاز ساختی مسائل کے اعتراف سے ہوتا ہے اور اختتام انتہائی محدود پیش رفت پر۔ اس کی قیمت ضائع شدہ مواقع، غیر استعمال شدہ صلاحیت اور پائیدار ترقی کے لیے درکار بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مسلسل ناکامی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

اس بنے بنائے ڈھانچے یا پیٹرن کو توڑنے کے لیے محض معمولی تبدیلیوں سے زیادہ کچھ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے طرزِ حکمرانی کے مروجہ انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے، جس میں توجہ عارضی حل سے ہٹا کر ادارہ جاتی تسلسل کے عزم پر مرکوز کرنی ہوگی۔ اس تبدیلی کے بغیر نہ تو تشخیص بدلے گی اور نہ ہی نتائج۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026