کاروبار اور معیشت

کراچی چیمبر کا اسٹوریج اور ڈیمریج چارجز میں ریلیف کا خیرمقدم

  • کاروبار دوست اقدام بلاشبہ بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات سے نمٹنے والے برآمد کنندگان کو مالیاتی طور پر انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرے گا، زبیر موتی والا، ریحان حنیف
شائع اپ ڈیٹ

بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا اورکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ریحان حنیف نے ملک کی برآمدی صنعت کو بندرگاہ پر اسٹوریج اور ڈیمریج چارجز میں نمایاں ریلیف فراہم کرنے پر وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد اور کے پی ٹی ٹرسٹی عبداللہ ذکی کی کوششوں کو سراہا ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی سطح پر جہاز رانی میں درپیش رکاوٹوں بالخصوص خلیجی ممالک کے لیے تجارتی اشیاء کی ترسیل متاثر ہونے کے دوران برآمد کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اور بروقت اقدامات کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے چیئرمین کے پی ٹی شاہد احمد اور کے پی ٹی ٹرسٹی عبداللہ ذکی کی بھی تعریف کی جنہوں نے ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ براہ راست رابطوں کے ذریعے تاجر برادری کے لیے ریلیف اقدامات کو فوری طور پر یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔

زبیرموتی والا اور ریحان حنیف نے کہا کہ بحری امور کی وزارت اور کے پی ٹی کے مؤثر رابطے کے نتیجے میں کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے جی ٹی ایل)، کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) اور ساؤتھ ایشیاء پاکستان ٹرمینلز (ایس اے پی ٹی ایل) سمیت بڑے ٹرمینل آپریٹرز برآمدی کنٹینرز بالخصوص خلیجی ممالک کو جانے والے کنٹینرز جن کی ترسیل غیر معمولی حالات کی وجہ سے رکی ہوئی تھی انکی اسٹوریج اور ڈیمریج چارجز میں رعایت دینے پر اتفاق کیا، یہ کاروبار دوست اقدام بلاشبہ بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات سے نمٹنے والے برآمد کنندگان کو مالیاتی طور پر انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرے گا.

انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی اقدام اس وقت پاکستان کی برآمداتی مسابقت کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی عزم کا اظہار ہے جب عالمی بحری تجارت کو علاقائی تناؤ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سمیت بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے.

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات جنید انور چوہدری کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں جن کی سربراہی میں کراچی بندرگاہ کو علاقائی ٹرانسشپمنٹ حب بنانے کےلیے پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں جن میں پورٹ ڈیوز، برتھنگ اور اسٹوریج میں مراعات کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کو راغب کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹوریج اور ڈیمریج چارجز میں بروقت کمی بالخصوص خلیجی مارکیٹوں سے وابستہ برآمد کنندگان کے لیے بڑے ریلیف کا باعث بنی ہے جو غیر متوقع تاخیر کی وجہ سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف لاگت کا بوجھ کم کیا بلکہ تاجر برادری کا اعتماد بھی بحال کیا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کاروبار دوست پالیسیاں پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو بہتر بنانے، بندرگاہ کی کارکردگی میں اضافہ کرنے اور علاقائی و عالمی تجارتی راہداریوں میں ملک کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

زبیرموتی والا اور ریحان حنیف نے امید ظاہر کی کہ بحری امور کی وزارت اور کے پی ٹی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھتے ہوئے بندرگاہ کے آپریشنز کو ہموار کرنے، کاروباری لاگت میں کمی لانے اور پاکستان کی بلیو اکانومی کی پوری صلاحیت بروئے کار لانے کے لیے مزید سہولتوں پر مشتمل اقدامات متعارف کرائیں گے۔