اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ ، 100 انڈیکس میں تقریباً 2,600 پوائنٹس کی کمی
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 165,823.87 پوائنٹس پر بند
اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن دیکھا گیا، بینچ مارک 100 انڈیکس دونوں سمتوں میں جھولنے کے بعد تقریباً 2,600 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بینچ مارک انڈیکس کا آغاز نسبتاً مستحکم زون میں ہوا ، اس دوران یہ مختصر وقت کے لیے 169,686 کی بلند ترین سطح (انٹرا ڈے ہائی) تک پہنچ گیا۔ تاہم اس کے فوراً بعد فروخت کا دباؤ شروع ہو گیا۔
دوپہر کے وقت مارکیٹ میں تھوڑا استحکام دیکھا گیا لیکن یہ سرمایہ کاروں کے منفی رجحان کو بدلنے میں ناکام رہا۔
آخری گھنٹوں میں دوبارہ دباؤ دیکھا گیا کیونکہ اختتام تک فروخت کنندگان کا غلبہ رہا جس نے انڈیکس کو 165,391 کی کم ترین سطح (انٹرا ڈے لو) کی طرف دھکیل دیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,588.36 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 165,823.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤئس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ”مقامی میوچل فنڈز کی مسلسل فروخت نے اس مندی کو بنیادی طور پر ہوا دی، جیسا کہ این سی سی پی ایل کے اعداد و شمار میں ظاہر ہے، جس سے منفی رجحان مزید بڑھ گیا۔“
بروکریج ہاؤئس کا اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں مزید کہنا ہے کہ ”منفی رجحانات میں اضافہ کرنے کے لیے، متعدد کمپنیوں کی مالی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے عمومی مایوسی پیدا ہوئی اور سرمایہ کاروں کو خطرات سے بچنے کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا گیا۔“
ٹاپ لائن کے مطابق بھاری حصص رکھنے والے اسٹاکس، جن میں یوبی ایل، این بی پی، او جی ڈی سی، پی پی ایل اور اینگرو ہولڈنگز شامل ہیں، مسلسل فروخت کے دباؤ کا شکار رہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,164 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ زیادہ تر شرائط پوری کردی ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 8 مئی کو 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ کی منظوری سے بیرونی فنڈز کی آمد کی راہ ہموار ہوگی جس سے توازنِ ادائیگی میں استحکام آئے گا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ مئی کے وسط میں آئی ایم ایف مشن کی آمد بھی متوقع ہے جو آئندہ برس کی بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کرے گا۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج مسلسل دوسرے سیشن میں بھی دباؤ کا شکار رہی۔ سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کے غیر متوقع اضافے پر ردعمل دیتے رہے جس کی وجہ سے دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا اور بڑے شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث مارکیٹ مندی پر بند ہوئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,085.12 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 168,412.23 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی تجارت کا آغاز غیر ہموار رہا کیونکہ فیڈرل ریزرو کے فیصلے اور سیشن کے اختتام پر بڑی ٹیک کمپنیوں کے مالیاتی نتائج سے قبل، ایران تنازع اور اے آئی شعبے کی صورتحال سے متعلق خدشات مارکیٹ پر حاوی رہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.2 فیصد گر گیا جو پیر کو قائم ہونے والی ریکارڈ سطح سے دوسرے روز بھی گراوٹ کا شکار رہا۔ اس مندی کی قیادت تائیوان کے چِپ ساز اداروں کے حصص میں ہونے والی کمی نے کی۔ جاپان کی مارکیٹیں چھٹی کے باعث بند تھیں۔
ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 111.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی کیونکہ ایران تنازع ختم کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین تجویز سے ناخوش ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ جوہری مسائل کو شروع ہی سے حل کیا جائے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے منگل کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کی طویل مدتی ناکہ بندی کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وال اسٹریٹ پر منگل کو حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جس کے دوران ایس اینڈ پی 500 میں 0.5 فیصد اور نیس ڈیک کمپوزٹ میں 0.9 فیصد کی گراوٹ آئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس فروخت کی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی تعطل کو قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر، مقامی کرنسی 278.80 پر بند ہوئی، یعنی ڈالرکے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہوا۔
آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ بندش میں 1,190.34 ملین سے کم ہو کر 1,087.44 ملین ہو گیا۔
حصص کی مالیت گزشتہ سیشن میں 34.54 ارب روپے سے بڑھ کر 39.55 ارب روپے ہوگئی۔
سنرجیکو پی کے 105.65 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، اس کے بعد کلوور پاکستان 91.11 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ہسکول پیٹرول 65.85 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
بدھ کو مجموعی طور پر 488 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 88 کے شیئرز میں اضافہ، 362 کے حصص میں کمی اور 38 کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔