اداریہ

مارکیٹ میں حیرت کی لہر

  • حکومت نے خاموشی سے بین الاقوامی قرضوں کی منڈی میں دوبارہ داخل ہو کر مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے
شائع April 28, 2026 اپ ڈیٹ April 28, 2026 12:24pm

حکومت نے خاموشی سے بین الاقوامی قرضوں کی منڈی میں دوبارہ داخل ہو کر مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ حکومت نے 750 ملین امریکی ڈالر کا اجرا کیا ہے، جس میں 250 ملین ڈالر کا گرین شو آپشن بھی شامل ہے، اور اس پر 6.975 فیصد کوپن ریٹ رکھا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 500 ملین ڈالر کی نجی پلیسمنٹ کی گئی ہے جبکہ باقی رقم کے لیے دیگر سرمایہ کاروں کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

یہ اجرا ایک وقفے کے بعد دوبارہ آغاز کی علامت معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ عالمی معاشی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے، خاص طور پر اس بات کے باعث کہ امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کب تک قائم رہتی ہے، تاہم پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہو رہی ہے جس کی وجہ ملک کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششیں ہیں۔

اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں سب سے اہم عالمی قرضوں کی منڈی تک دوبارہ رسائی ہے۔ یہ بانڈ تین سال کے لیے جاری کیا گیا ہے اور امکان ہے کہ حکومت مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے اجرا کے ذریعے دوبارہ مارکیٹ میں آئے گی۔ اسی وجہ سے حکومت نے بین الاقوامی کنسورشیمز سے بولیاں طلب کی ہیں تاکہ آئندہ تین سال کے دوران عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں انڈر رائٹرز، لیڈ منیجرز اور بک رنرز کے طور پر خدمات انجام دی جا سکیں۔

وزارتِ خزانہ چاہتی ہے کہ ایک ایسا مالیاتی چینل کھولا جائے جس کے ذریعے ضرورت کے وقت فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم کم خوش آئند پہلو یہ ہے کہ حکومت کا انحصار اب بھی بڑی حد تک قرضوں پر برقرار ہے۔

مارکیٹ پر مبنی مالیاتی بہاؤ دوست ممالک کے ڈپازٹس کے مقابلے میں بہتر ہیں، جو صرف اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو وقتی طور پر بڑھاتے ہیں۔ جبکہ عالمی قرضوں یا کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ قرض کی صورت میں روپے کے مساوی رقم پیدا کر کے مالی خسارہ پورا کیا جا سکتا ہے، جو بصورت دیگر اندرونی قرضوں سے پورا کرنا پڑتا۔

اندرونی قرض پہلے ہی بہت زیادہ ہے، کیونکہ ریورس اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم اوز) 14 کھرب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اس کو کم کرنے کا واحد طریقہ، حکومت کے قرض لینے میں کمی کے علاوہ، یہ ہے کہ اندرونی قرض کو بیرونی قرض سے تبدیل کیا جائے۔ اس سے نیٹ فارن ایسٹس (این ایف اے) میں اضافہ ہوگا، جو مالیاتی پوزیشن بہتر کرے گا اور مہنگائی کے بہتر منظرنامے میں مدد دے گا۔

مارکیٹ کے شرکا کا خیال ہے کہ حکومت کو بین الاقوامی قرضوں کی منڈی میں پہلے ہی داخل ہو جانا چاہیے تھا، کیونکہ اسی نوعیت کی شرحیں مشرقِ وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے بھی دستیاب تھیں۔ تاہم ڈیٹ آفس بہتر ریٹس کا خواہاں تھا اور وزیرِ خزانہ پانڈا بانڈز کے اجرا میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اب حکومت عالمی قرضوں کی منڈی سے تقریباً 7 فیصد شرح پر فنڈز حاصل کر رہی ہے، جو شاید اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مالی ضروریات بڑھ رہی ہیں جبکہ بیرونی مالی ذرائع محدود ہو رہے ہیں۔

ریونیو وصولی بھی متاثر ہونے کا امکان ہے کیونکہ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پیٹرولیم لیوی کے اہداف پورے نہیں ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ عام طور پر آخری سہ ماہی میں سست روی ہوتی ہے، جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اہداف سے پیچھے رکھ سکتی ہے۔ مزید برآں، آئی ایم ایف کا دباؤ بھی حکومت کو مقامی مارکیٹ میں فکسڈ ریٹ بانڈز جاری کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جس سے منافع کی شرحیں بڑھ رہی ہیں۔

ان حالات کا مقابلہ کرنے اور بڑھتی ہوئی مجموعی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، خاص طور پر جب اسٹیٹ بینک نے 4.8 ارب ڈالر (جن میں متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس اور یورو بانڈ شامل ہیں) کی ادائیگی کر دی ہے، حکومت دوبارہ بین الاقوامی قرضوں کی منڈی میں واپس آ گئی ہے۔

تاہم جو چیز اب بھی غائب ہے وہ سرمایہ کاری کے بہاؤ ہیں، کیونکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہے۔ حکومت آج کے مسائل حل کرنے کے لیے نئے قرض لیتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں آنے والے کل کے لیے مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کو درست سمت میں ڈالا جائے اور بہتر جغرافیائی سیاسی ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے ایف ڈی آئی کو راغب کیا جائے۔ بصورت دیگر ملک قرض کے جال میں پھنسا رہ سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026