پاکستان

صدر اور وزیراعظم کی واشنگٹن پریس ڈنر فائرنگ کی مذمت

  • صدر آصف زرداری نے اس واقعے کو ایک سنگین دہشت گردی کا عمل قرار دیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اتوار کے روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو ایک مسلح شخص کی جانب سے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش پر سیکریٹ سروس اہلکاروں نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی مذمتکی ہے، اور صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک سنگین دہشت گردی کا عمل قرار دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے پر شدید صدمے میں ہیں اور اس بات پر اطمینان ہے کہ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکا محفوظ رہے۔ انہوں نے ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایک شخص نے جو شاٹ گن سے مسلح تھا، تقریب کے دوران سیکریٹ سروس کے ایک اہلکار پر فائرنگ کی۔

ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ گولی اہلکار کے جسم پر موجود بلٹ پروف جیکٹ والے حصے پر لگی، جس کے باعث وہ محفوظ رہا اور زخمی نہیں ہوا۔

حکام نے تصدیق کی کہ تمام وفاقی عہدیدار، بشمول صدر، محفوظ رہے۔

صدر ٹرمپ کو فوری طور پراس مقام سے سیکیورٹی اہلکاروں نے نکال لیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سیکریٹ سروس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کو سراہا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ خاتونِ اول، نائب صدر اور کابینہ کے اراکین مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

سیکریٹ سروس کے ترجمان انتھونی گوگلیئلمی نے بتایا کہ ایجنسی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جو واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے مرکزی داخلی اسکریننگ ایریا کے قریب پیش آیا۔

یہ ہوٹل تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ وہی مقام ہے جہاں 1981 میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق واقعے کے محرکات اور حالات کی تحقیقات جاری ہیں۔