وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ کیسے پیش آئی؟ واقعے کی مکمل تفصیل
- پولیس کے مطابق ملزم شاٹ گن، ہینڈگن اور متعدد چھریوں سے مسلح تھا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر میں فائرنگ کا واقعہ اور اس کے فوری بعد کی صورتحال یہ رہی۔
تقریباً 8:35 بجے شام (ای ٹی) واشنگٹن ہلٹن میں منعقدہ عشائیے کے دوران مہمانوں نے اس وقت پناہ لی جب فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جس کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف دوڑے اور انہیں اور ان کی کابینہ کو ہال سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر اور عبوری پولیس چیف جیفری کیرول نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ ایک حملہ آور نے ہوٹل کی لابی میں موجود سیکریٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر دھاوا بولا۔ پولیس کے مطابق ملزم شاٹ گن، ہینڈگن اور متعدد چھریوں سے مسلح تھا۔ جب وہ چیک پوائنٹ سے گزر رہا تھا تو سیکریٹ سروس اہلکاروں نے اسے روک لیا۔
میئر کے مطابق ایک سیکریٹ سروس اہلکار زخمی ہوا اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ حملہ آور کو بھی طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس چیف نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، تاہم اسے گولی نہیں لگی۔ بعد ازاں اہلکاروں نے اسے زمین پر گرا کر گرفتار کر لیا۔
تقریباً 9:17 پر شام صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تیزی اور بہادری سے کارروائی کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تجویز دی کہ تقریب جاری رکھی جائے۔
تقریباً 20 منٹ بعد انہوں نے ایک اور پیغام میں کہا کہ حکام نے انہیں اور دیگر افراد کو مقام چھوڑنے کی ہدایت دی ہے اور وہ اس کی تعمیل کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ تقریب کو 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔
رات تقریباً 10:30 پر وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اور قائم مقام اٹارنی جنرل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور اکیلا تھا۔
رات 11:13 پر ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی یو ایس اٹارنی جینین پیرو نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم پر پرتشدد جرم کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنے اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔