امریکہ ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی
- برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 15 سینٹ کمی کے ساتھ 101.76 ڈالر فی بیرل ہوگئی
ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے نمایاں اضافے کے بعد جمعرات کو معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہوئی ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 15 سینٹ کمی کے ساتھ 101.76 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 14 سینٹ کمی کے بعد 92.82 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اس سے ایک روز قبل دونوں بینچ مارکس میں 3 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا تھا، جس کی بڑی وجہ امریکہ میں پیٹرول اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں غیر متوقع کمی اور ایران-امریکہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی پر جنگ بندی میں توسیع تو کی ہے، تاہم ایران اور امریکہ دونوں اب بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کو محدود کیے ہوئے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی یومیہ تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتی رہی ہے، خاص طور پر فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے پہلےتک۔
کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا، جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایشیائی پانیوں میں کم از کم تین ایرانی ٹینکروں کو روک کر ان کا رخ بھارت، ملائیشیا اور سری لنکا کے قریب سے موڑ دیا ہے۔
ادھر امریکہ کی تیل برآمدات بھی ریکارڈ سطح 12.88 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، کیونکہ ایشیا اور یورپ کے ممالک نے ایران جنگ سے پیدا ہونے والی خلل کے باعث امریکی سپلائی کا رخ کیا۔ امریکی توانائی معلوماتی ادارے کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں 1.9 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرول اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں بالترتیب 4.6 ملین اور 3.4 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔