دنیا

ٹرمپ کے فیڈرل ریزرو چیئرمین کے نامزد امیدوار نے تصدیقی سماعت کے دوران ادارے کی خودمختاری کے تحفظ کا عزم ظاہر کر دیا

  • سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے سامنے ابتدائی بیان میں وارش نے کہا: ”میں اس بات کے لیے پُرعزم ہوں کہ مانیٹری پالیسی کی تشکیل مکمل طور پر آزادانہ رہے۔“
شائع April 21, 2026 اپ ڈیٹ April 21, 2026 10:48pm

کیون وارش، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیڈرل ریزرو کی قیادت کے لیے نامزد امیدوار ہیں، نے منگل کے روز اپنی تصدیقی سماعت کے دوران مرکزی بینک کی خودمختاری کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم اس دوران صدر کی جانب سے شدید دباؤ بھی موجود رہا۔

سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے سامنے ابتدائی بیان میں وارش نے کہا: ”میں اس بات کے لیے پُرعزم ہوں کہ مانیٹری پالیسی کی تشکیل مکمل طور پر آزادانہ رہے۔“

انہوں نے مہنگائی کے خلاف مؤثر اقدامات کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

یہ سماعت ایک اہم مرحلہ ہے، کیونکہ اسی کے بعد وارش کو فیڈرل ریزرو کے موجودہ چیئرمین جیروم پاول کی جگہ سنبھالنے کے لیے منظوری درکار ہوگی، جن کی مدت 15 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

تاہم یہ عمل ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ فیڈ پر شرح سود میں مزید تیزی سے کمی نہ کرنے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

اسی روز سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر نئے چیئرمین نے شرح سود فوری طور پر کم نہ کی تو انہیں مایوسی ہوگی، اور انہوں نے فیڈ چیئرمین پاول کو مرکزی بینک کی عمارت کی تزئین و آرائش کے اخراجات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے کہا: ”ہمیں دنیا میں سب سے کم شرح سود ہونی چاہیے۔“

ادھر یہ سماعت سیاسی طور پر بھی کشیدہ ہے، کیونکہ سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے تمام 11 ڈیموکریٹ اراکین نے گزشتہ ہفتے وارش کی نامزدگی کے عمل کو اس وقت تک مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا جب تک جیروم پاول اور فیڈ گورنر لیزا کک کے خلاف جاری علیحدہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔

ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس، جو اپنی جماعت کے زیرِ قیادت پینل کے رکن ہیں، نے بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ فیڈ کے تمام نامزد امیدواروں، بشمول کیون وارش، کی منظوری اس وقت تک روکیں گے جب تک جیروم پاول کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی جاری تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔

کمیٹی میں 13 ریپبلکن اراکین کی موجودگی کے پیش نظر، ٹلس کی مخالفت وارش کی نامزدگی کو تعطل کا شکار کرنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی ہے۔

وارش کو قانون سازوں کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا بھی متوقع ہے، جن میں ان کی ذاتی دولت، اور مبینہ طور پر مرحوم امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے ماضی کے روابط جیسے حساس معاملات شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی پالیسیوں سے متعلق مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے۔

خود کو منوانے کا مرحلہ

برُوکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیوڈ ویسل نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سماعت وارش کے لیے ”اپنے پہلے بڑے موقع“ کے طور پر اہم ہے، جہاں وہ یہ ثابت کریں گے کہ وہ ایک معتبر اور خودمختار مرکزی بینکار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویسل کے مطابق وارش کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا،انہیں ایک طرف ٹرمپ کو ناراض کرنے سے بچنا ہوگا، اور دوسری طرف یہ تاثر بھی نہیں دینا ہوگا کہ وہ کمزور ہیں یا سیاسی دباؤ کے تابع ہیں۔

منگل کو وارش نے موقف اختیار کیا کہ مانیٹری پالیسی کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رکھنا فیڈرل ریزرو کی اپنی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا: ”میں نہیں سمجھتا کہ منتخب نمائندوں کی شرح سود پر رائے دینے سے مانیٹری پالیسی کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی سے نمٹنا فیڈ کا اختیار ہے، تاہم مرکزی بینک کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔

سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے چیئرمین ٹم سکاٹ نے سماعت کو فیڈ کے دوہری مینڈیٹ، قیمتوں میں استحکام اور روزگار میں بہتری، پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع قرار دیا۔

تاہم ڈیموکریٹ رہنما الزبتھ وارن نے خبردار کیا کہ پاول اور کک کے خلاف تحقیقات کا مقصد فیڈ حکام پر سیاسی دباؤ ڈالنا ہے، اور انہوں نے تنبیہ کی کہ مرکزی بینک کو صدر کا ”کٹھ پتلی“ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

مہنگائی اور شرح سود کا دباؤ

اینگ کے ماہر معاشیات جیمز نائٹلی کے مطابق اس سماعت میں بنیادی توجہ اس بات پر ہوگی کہ وارش کس حد تک صدر کے شرح سود میں کمی کے مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔

نائٹلی کے مطابق وارش اپنے 2006 سے 2011 تک کے فیڈ دور میں زیادہ سخت موقف (ہاکش) رکھتے تھے، یعنی وہ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود بلند رکھنے کے حامی تھے۔

تاہم اب ان کے مؤقف میں تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ وارش ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) میں سرمایہ کاری کے حامی ہیں، جس کے بارے میں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معیشت کو بغیر زیادہ مہنگائی دباؤ کے ترقی دینے کی صلاحیت بڑھا سکتی ہے۔

تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی قیمتیں شرح سود میں کمی کی راہ میں فوری رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر وارش نے شرح سود میں تیزی سے کمی پر زیادہ زور دیا تو فیڈ کی مہنگائی پر قابو پانے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ انہیں مختصر مدت کے قیمتوں کے دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے یہ واضح کرنا ہوگا کہ یہ دباؤ مستقل افراطِ زر کا باعث نہیں بنیں گے۔