مارکٹس

عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے میں ناکامی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا امریکہ پر انحصار برقرار

  • آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے شدید متاثرہ ترقی پذیر ممالک کے لیے 150 ارب ڈالر کی نئی مالی امداد کا عہد
شائع April 19, 2026 اپ ڈیٹ April 19, 2026 04:15pm

عالمی مالیاتی رہنما، جو مشرق وسطیٰ کی جنگی خبروں کے باعث غیریقینی صورتحال کا شکار تھے گزشتہ ہفتے اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ تیزی سے رونما ہونے والے جغرافیائی سیاسی جھٹکوں سے ہونے والے معاشی نقصان کو کم کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ساتھ ہی انہیں یہ احساس بھی ہوا کہ بحرانوں کے حل کے لیے امریکی قیادت پر انحصار کرنا اب ویسی ضمانت نہیں رہا جیسا کہ طویل عرصے سے سمجھا جاتا تھا۔

واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسمِ بہار کے اجلاسوں میں شرکاء کی کیفیت بدلی ہوئی تھی۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کے جھٹکوں کی وجہ سے عالمی معاشی منظرنامہ بگڑنے پر جہاں ایک طرف مایوسی تھی وہیں اس وقت تھوڑی امید بھی نظر آئی جب ایسا لگا کہ ایران شاید آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا، تاکہ تیل، گیس، کھاد اور دیگر اشیاء کی ترسیل بحال ہو سکے۔

تاہم ہفتے تک بحری جہازوں پر نئے حملوں کے باعث وہ امید دم توڑنے لگی۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے توانائی کی قیمتوں کے بڑے جھٹکے سے شدید متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب ڈالر تک کی نئی مالی امداد کا وعدہ کیا اور سات سال کے وقفے کے بعد وینزویلا کی عبوری حکومت کے ساتھ دوبارہ روابط بحال کرنے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ تیل کا ذخیرہ نہ کریں اور مہنگی و غیر ہدف شدہ فیول سبسڈی دینے میں حد سے نہ بڑھیں۔ لیکن وہ آخر کار تہران اور وائٹ ہاؤس کے بیانات پر نظر رکھنے کے علاوہ وہ کچھ زیادہ نہ کر سکے۔

اٹلانٹک کونسل میں بین الاقوامی معاشیات کے چیئرمین جوش لپسکی نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کیمپس کے بارے میں کہا کہ درحقیقت عالمی معیشت کے کچھ اہم ترین فیصلے یہاں نہیں ہو رہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں واحد سب سے اہم پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اچھی خبر ہوگی اور ہم انتظار کریں گے۔

اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اور جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود، سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کئی حکام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک بہتر معاشی منظرنامے کی پیش گوئی کرنے میں راحت محسوس نہیں کریں گے جب تک ٹینکرز دوبارہ مناسب انشورنس کے ساتھ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنا شروع نہ کر دیں اور تیل کی قیمتیں نیچے نہ آ جائیں۔

الجدعان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا اگر راستے کھل جاتے ہیں تو میرے خیال میں یہی وہ چیز ہے جو منظرنامے میں تبدیلی کا سبب بنے گی۔

جیسے ہی آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے اپنی عالمی شرحِ نمو کی پیش گوئی کو معمولی کم کر کے 3.1 فیصد کیا (جو کہ اس کے تین منظرناموں میں سب سے زیادہ پرامید تھا)، ادارے نے فوراً کہہ دیا کہ یہ اب پرانا ہو چکا ہے اور عالمی معیشت مزید خراب صورتحال کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں شرحِ نمو صرف 2.5 فیصد رہ سکتی ہے۔ فنڈ کی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ ایک طویل جنگ عالمی معیشت کو کساد بازاری میں دھکیل سکتی ہے۔

معاشی جھٹکے پر جھٹکا

فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے قبل عالمی معیشت گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارتی شراکت داروں پر عائد کردہ بھاری محصولات کے جھٹکے سے سنبھل رہی تھی۔

اس سال کے اجلاسوں میں تجارتی تناؤ پر بات چیت دبی دبی رہی، جیسا کہ یوکرین پر روس کی جنگ کا معاملہ تھا، اگرچہ G7 کے وزرائے خزانہ نے روس پر دباؤ برقرار رکھنے کا عہد کیا۔

لپسکی نے کہا کہ 2020 میں کووڈ-19 کی وبا اور 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے شروع ہونے والے مسلسل جھٹکوں نے ممالک کو یہ سکھایا ہے کہ امریکہ اب بین الاقوامی نظام کا واحد سربراہ نہیں رہا اور ضروری نہیں کہ وہ حل فراہم کرے۔

امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے جمعہ کو ایک اقدام شروع کیا جس میں جی 20 ممالک، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مطالبہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک سے سپلائی میں خلل کے درمیان کھادوں تک مناسب رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کارروائی کریں لیکن جنگ شروع ہونے کے سات ہفتوں بعد یہ اقدام شمالی نصف کرہ کے ان کسانوں کے لیے قلت اور زیادہ قیمتوں کو کم کرنے میں کچھ خاص مدد نہیں دے سکے گا جو اس وقت بہار کی فصلیں کاشت کر رہے ہیں۔

افریقی ترقیاتی بینک کے چیف اکانومسٹ کیون چیکا اوراما نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران نے افریقی ممالک کے لیے علاقائی تجارت اور معاشی تعلقات کو گہرا کرنے، توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنے، اپنے مقامی ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی نئی ضرورت پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے دیگر کثیر الجہتی اداروں کے چیف اکانومسٹ کے پینل کو بتایا جغرافیائی سیاسی تناؤ اب ایک نارمل بات ہے اور پالیسی سازی میں غیریقینی صورتحال اب یقینی ہو چکی ہے۔

ہماری جنگ نہیں

اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکرز اور دیگر حکام نے ٹرمپ کے اقدامات کی وجہ سے ایک اور معاشی مصیبت میں دھکیلے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں شریک ایک سینئر مالیاتی اہلکار کے مطابق بند کمروں کے اجلاسوں میں حکام نے خاص طور پر یورپ سے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر تبصرے زیادہ سفارتی تھے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کم تھی۔

فرانسیسی وزیر خزانہ رولینڈ لیسکیور نے نامہ نگاروں کو بتایا اس تنازع کی گرہ آبنائے ہرمز ہے۔ ہمیں اسے کھولنے کی ضرورت ہے، لیکن کسی بھی قیمت پر نہیں۔ میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے (اضافی) ڈالر ادا نہیں کرنا چاہتا۔

افریقی وزراء کے ایک پینل کے دوران لیسوتھو کی وزیر خزانہ اور ترقیاتی منصوبہ بندی ریٹسلیسیتسو ایڈیلائیڈ میٹلانیانے نے کہا کہ اس جنگ سمیت لگاتار جھٹکوں نے ترقی پذیر معیشتوں کی منصوبہ بندی کو درہم برہم کر دیا ہے اور اب آپ کے پاس سانس لینے کا وقت بھی مشکل سے بچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیسوتھو جیسی چھوٹی، کھلی اور کمزور معیشتوں کے لیے ان جھٹکوں نے مالیات، قیمتوں اور ہر چیز پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔میٹلانیانے نے مزید کہا کہ قرضوں کا انتظام اب بہت پیچیدہ ہو گیا ہے اور ان تناؤ نے یہ احساس دلایا ہے کہ ہمیں پالیسی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا اور مختلف انداز میں سوچنا ہوگا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ اس صورتحال سے نمٹنا مایوس کن ہے۔

تھائی لینڈ کے لیے، جو توانائی کا خالص درآمد کنندہ ہے اور اکتوبر میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کی میزبان بھی کرے گا، خلیج کے تباہ شدہ تیل اور گیس کے ڈھانچے کے اثرات طویل عرصے تک قیمتوں کو بلند رکھیں گے۔ یہ بات تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم ایکنیٹی نیتتھان پراپاس نے کہی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بحران تھائی لینڈ کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ فوسل فیول (معدنی ایندھن) پر اپنا انحصار کم کرے اور شمسی توانائی سمیت قابل تجدید توانائی کے کردار کو بڑھائے جو کہ ٹرمپ کے توانائی ایجنڈے کے بالکل برعکس ہے۔

نیتتھان پراپاس نے کہا کہ ہمیں تبدیلی کا عہد کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ لوگوں کو اس بکھری ہوئی دنیا اور تیل کی بلند قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ڈھالنے میں مدد مل سکے۔