مشرق وسطیٰ تنازع کے باوجود معیشت مضبوط ہے،اسٹیٹ بینک گورنر
- واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس کے موقع پر عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے اگرچہ عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے، تاہم پاکستان کی معیشت اس وقت ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے کہ وہ ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس کے موقع پر عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن سمیت بڑی عالمی سرمایہ کاری کمپنیوں اور فِچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہنگائی اوسطاً 5.7 فیصد رہی، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس میں مرکزی بینک کی انٹربینک مارکیٹ سے خریداریوں کا اہم کردار رہا۔
انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال میں مالی استحکام اور بیرونی فنڈنگ کی آمد کے باعث جون 2026 تک ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو بھی بہتری کی طرف گامزن ہے اور مالی سال کے پہلے نصف میں جی ڈی پی گروتھ 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال 1.8 فیصد تھی۔
جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں بہتر ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی، شپنگ اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے اور کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کو پاکستان کی معاشی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 12.4 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر اور 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کو ایک اہم کامیابی قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026