بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 8.97 فیصد کمی
- جولائی تا فروری مالی سال 2025-26 کے دوران بڑی صنعتوں میں سالانہ بنیاد پر 5.89 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی
بڑی صنعتیں (ایل ایس ایم) کے شعبے نے ماہانہ بنیادوں پر 8.97 فیصد منفی نمو ریکارڈ کی ہے، کیونکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے کوانٹم انڈیکس (کیو آئی ایم) کے مطابق فروری 2026 میں انڈیکس 144.46 سے کم ہو کر 131.50 پوائنٹس پر آ گیا۔ یہ بات پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس)کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں سامنے آئی ہے۔
تاہم ادارے کے مطابق جولائی تا فروری مالی سال 2025-26 کے دوران بڑی صنعتوں میں سالانہ بنیاد پر 5.89 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔
فروری 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.45 فیصد اضافہ ہوا تھا، کیونکہ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم) 123.53 پوائنٹس سے بڑھ کر 131.50 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
پی بی ایس کے مطابق جولائی تا فروری (2025-26) کے دوران ایل ایس ایم آئی کا کوانٹم انڈیکس 122.77 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 115.94 پوائنٹس تھا۔
اس عرصے کے دوران آٹوموبائل سیکٹر نے 61.66 فیصد کی نمایاں ترقی دکھائی، جبکہ چینی کی صنعت میں 13.62 فیصد اضافہ ہوا۔ کپاس کی دھاگے (کاٹن یارن) میں 2.23 فیصد، کپاس کے کپڑے میں 0.2 فیصد، ملبوسات میں 7.16 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 11.98 فیصد اور سیمنٹ کے شعبے میں 11.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم کھاد کے شعبے میں 0.15 فیصد اور آئرن و اسٹیل سیکٹر میں 5.70 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ماہانہ بنیادوں پر فروری میں آٹوموبائل انڈسٹری میں 28.74 فیصد، چینی کی صنعت میں 29.34 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 14.03 فیصد، کھاد میں 9.60 فیصد اور سیمنٹ میں 8.27 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر میں 9.94 فیصد منفی نمو ریکارڈ کی گئی۔
مجموعی 5.89 فیصد ترقی میں خوراک، تمباکو، ٹیکسٹائل، ملبوسات، پیٹرولیم مصنوعات، سیمنٹ، برقی آلات اور آٹوموبائل جیسے شعبوں نے اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب کیمیکل، فارماسیوٹیکل، آئرن و اسٹیل مصنوعات اور مشینری و آلات کے شعبوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026