ہرمز کے کنٹرول کے سوا ایران کے پاس کوئی مؤثر کارڈ نہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
- آبنائے ہرمز،جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کا کنٹرول ہفتے کے روز پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں ایران کے پاس کوئی مؤثر ”کارڈ“ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنے عملی کنٹرول کو دباؤ کے طور پر استعمال کرے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ”ایرانی شاید یہ نہیں سمجھ رہے کہ ان کے پاس کوئی کارڈ نہیں، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے عارضی طور پر دنیا کو بلیک میل کریں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”وہ آج صرف اسی لیے موجود ہیں کہ مذاکرات کریں!“
ایک الگ سوشل میڈیا پیغام میں 79 سالہ امریکی صدر نے کہا کہ ”ایرانی فیک نیوز میڈیا اور پبلک ریلیشنز سنبھالنے میں لڑائی سے زیادہ ماہر ہیں!“
انہوں نے مزید کہا کہ تنگ آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کا کنٹرول ہفتے کے روز پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہوگا۔
ایران اور امریکا نے کہا تھا کہ منگل کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ اہم گزرگاہ دوبارہ کھول دی جائے گی، تاہم تہران کی دھمکیوں کے باعث یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم رہی ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران اس آبی راستے سے تیل کی ترسیل کی اجازت دینے میں ”بہت خراب کارکردگی“ دکھا رہا ہے، اور مزید کہا کہ ”یہ ہمارا طے شدہ معاہدہ نہیں ہے!“
ایران کے بارے میں ان کے ”کوئی کارڈ نہیں“ والے بیان نے فروری میں اوول آفس میں یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی پر کی گئی ان کی تنقید کی یاد تازہ کر دی، جب انہوں نے کہا تھا کہ ”تمہارے پاس کوئی کارڈ نہیں“۔
جمعہ کو ایک الگ گفتگو میں ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ اگر مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران پر حملے کے لیے امریکی جنگی جہازوں کو دوبارہ ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔
اخبار کے مطابق انہوں نے ٹیلیفون پر کہا کہ ”ہم ایک نیا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم جہازوں کو بہترین گولہ بارود اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں، پہلے سے بھی زیادہ مؤثر، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم انہیں استعمال کریں گے، اور مؤثر انداز میں کریں گے۔“
اس سے قبل ایک مختصر اور مبہم سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے ”دنیا کا سب سے طاقتور ری سیٹ!!!“ کا ذکر بھی کیا تھا۔
نائب صدر جے ڈی وینس جمعہ کو واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز سے اسلام آباد جانے کے لئے روانہ ہوئے تاکہ ایران کے ساتھ اس ہفتے کے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں، اور تہران کو خبردار کیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ ”کھیل“ نہ کرے۔
روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ”ہم مثبت مذاکرات کی کوشش کریں گے۔ اگر ایرانی سنجیدگی سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی تعاون کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر وہ ہمیں آزمانے کی کوشش کریں گے تو مذاکراتی ٹیم اس پر مثبت ردعمل نہیں دے گی۔“
آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر اہم نکات میں امریکا کا یہ مطالبہ شامل ہے کہ ایران اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ترک کرے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مزید کارروائیوں کو روکا جائے۔