سونے کی قیمتوں جمعرات کو استحکام رہا کیونکہ مارکیٹ کے شرکاء امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کی سمت کے حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں جب کہ آج ہی پیش کی جانے والی امریکہ کی اہم افراطِ زر (مہنگائی) کی رپورٹ بھی مرکزِ نگاہ ہے جس سے شرحِ سود کے بارے میں اشارہ ملنے کی توقع ہے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی اور یہ 4,713.79 ڈالر فی اونس پر برقرار رہی۔ دوسری جانب جون کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے مستقبل کے سودوں میں 0.8 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 4,736.50 ڈالر ہوگئی۔

گولڈ سلور سینٹرل کے منیجنگ ڈائریکٹر برائن لین کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ اس وقت سونے کی قیمتوں میں کوئی بڑی ہلچل ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ اب بھی اس حوالے سے کافی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنگ بندی کے بعد (مارکیٹ کی) صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

برائن لین کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ مستقبل قریب میں سونے کی قیمتیں 4,607 ڈالر سے 4,860 ڈالر کے درمیان مستحکم رہیں گی۔

بدھ کو اسرائیل نے لبنان پر اب تک کے شدید ترین حملے کیے جس میں سینکڑوں افراد مارے گئے جس کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اس خدشے کے باعث اضافہ ہوا کہ مشرق وسطیٰ کے اہم پیداواری خطے سے سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکے گی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی برقرار رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

28 فروری کو ایران پر امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں نے افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو ہوا دی اور مارکیٹ کو شرحِ سود سے متعلق توقعات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔

عام طور پر منافع یا سود نہ دینے والا سونا کم شرحِ سود والے ماحول میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے 17 سے 18 مارچ کے اجلاس کے منٹس سے ظاہر ہوا ہے کہ مزید پالیسی سازوں نے یہ محسوس کیا کہ مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کیلئے شرحِ سود میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر ایران جنگ کے تناظر میں۔

سرمایہ کار اب امریکہ کے مہنگائی سے متعلق اہم اشاریوں کے منتظر ہیں، جن میں فروری کے لیے پرسنل کنزمپشن ایکسپنڈیچر کا ڈیٹا، جو آج ہی جاری ہونا ہے اور جمعہ کو آنے والے مارچ کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار شامل ہیں۔ ان اعدادوشمار سے فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بدھ کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ مستقبل قریب کی لیکویڈیٹی ضروریات سے ہٹ کر ہم توقع کرتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات کے پیشِ نظر آنے والے مہینوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دوبارہ بحال ہو جائے گا۔

دیگر دھاتوں میں اسپاٹ سلور (حاضر چاندی) کی قیمت 0.5 فیصد گر کر 73.71 ڈالر فی اونس رہ گئی، پلاٹینم 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 2,017.26 ڈالر اور پلیڈیم 0.4 فیصد گراوٹ کے ساتھ 1,549.18 ڈالر پر آگیا۔