دنیا

امریکا، ایران کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی، ثالث ممالک نے کوششیں تیز کردیں

  • مجوزہ معاہدے کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، ایکسیوس
شائع اپ ڈیٹ

ثالث ممالک کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جہاں 45 دن کی عارضی جنگ بندی پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے واقف امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

رپورٹ کے مطابق ثالث دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 45 دن کی جنگ بندی شامل ہوگی، جس دوران مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا۔ اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل کی شام تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے جبکہ عالمی برادری جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے۔