ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی کا خدشہ، صوبوں کو فوری اقدامات کی ہدایت
- اجلاس میں بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ پر اثرات کا جائزہ لیا گیا
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد صوبائی حکومتوں کو مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ ہدایات ہفتہ کے روز نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی(این پی ایم سی) کے آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔
اجلاس میں بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بڑے شہری مراکز میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اوسطاً 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور بعض روٹس پر یہ اضافہ 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی نے صوبائی حکام کو ہدایت دی کہ ٹرانسپورٹ محکمے 24 گھنٹوں کے اندر نظرثانی شدہ کرایہ نامے جاری کریں اور ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتی سبسڈی کے فوائد ٹرانسپورٹرز کی من مانی اضافوں کی وجہ سے ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ کرایوں کے تعین اور عملدرآمد کے لیے صوبائی ٹرانسپورٹ سیکریٹریز کو واضح ذمہ داریاں سونپیں۔ انہوں نے فیلڈ میں نفاذ کو مزید مؤثر بنانے، اچانک معائنوں اور اوورچارجنگ کی روک تھام کے لیے تصدیقی نظام مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ لاجسٹکس اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں دوسرے مرحلے کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں، اس لیے اشیائے ضروریہ کی ہفتہ وار نگرانی کی جائے۔ کمیٹی آئندہ ایک ماہ کے دوران قیمتوں کی صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کے لیے ہر ہفتے اجلاس منعقد کرے گی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکسکو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلعی سطح پر قیمتوں کی درجہ بندی ہر ہفتے فراہم کرے تاکہ غیر معمولی رجحانات کی نشاندہی کر کے صوبائی حکومتیں بروقت اصلاحی اقدامات کر سکیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے مزید ہدایت کی کہ مارکیٹ کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ تھوک اور پرچون قیمتوں کو ریگولیٹ کریں اور منافع کے مارجن کی نگرانی کریں تاکہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو روکا جا سکے۔ انہوں نے ٹماٹر، پیاز، آلو، گندم، چاول اور دالوں سمیت خراب ہونے والی اور بنیادی اشیا کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا۔
حکومتی سبسڈی کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ ان کا مطلوبہ اثر مارکیٹ قیمتوں میں نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سبسڈی مکمل طور پر قیمتوں میں اضافے کی نذر ہو جائے تو اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔
اجلاس میں مقامی اور عالمی منڈیوں میں یوریا کھاد کی قیمتوں کے فرق پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث اسمگلنگ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکام کو ہدایت دی کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور کسانوں کے لیے کھاد کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026