پٹرولیم قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: مہنگائی 15 فیصد سے تجاوز، شرح سود میں اضافے کا خدشہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد پاکستان مہنگائی کی نئی لہر اور مانیٹری پالیسی میں سختی (شرحِ سود میں اضافے) کے لیے تیار ہے جب کہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سی پی آئی افراطِ زر 15 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے جس کی بڑی وجہ ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
ان خدشات کا اظہار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد کیا جارہا ہے، واضح رہے کہ حکومت بھاری سبسڈیز کو برقرار رکھنے کے لیے مشکلات کا شکار تھی۔
کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح مارچ 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ ماہ یہ شرح 7 فیصد اور مارچ 2025 میں محض 0.7 فیصد تھی۔
اسی دوران ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے سینسٹیو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) پر مبنی مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 1.01 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے جس میں ایک ہی ہفتے کے دوران 13.28 فیصد کی تیزی دیکھی گئی۔
بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر اسلم نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 13 فیصد ہو جائے گی جبکہ مئی اور جون میں یہ 15 فیصد سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں معاشی ماہر اب آئندہ مانیٹری پالیسی ریویو میں شرحِ سود میں 1 سے 2 فیصد اضافے کی توقع کررہے ہیں کیونکہ مرکزی بینک مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرنسی پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے جس کے باعث روپے کی قدر میں 5 سے 7 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ ان کے تخمینے کے مطابق جون تک امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 290 روپے کے لگ بھگ پہنچ سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ مرکزی بینک نے اپنی بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھا جس کا اندازہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر مرکزی بینک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے ان حالات نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
علی خضر نے مزید کہا کہ اسی دوران توانائی کا ایک ابھرتا ہوا چیلنج صورتحال کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی میں ممکنہ کمی اور ترسیل کے نظام میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور وقفے وقفے سے لوڈ شیڈنگ ہوسکتی ہے، خاص طور پر موسمِ گرما کے عروج کے مہینوں میں پنجاب کے علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔
جمعرات کو حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا جس کے تحت ڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد اور پٹرول میں 43 فیصد اضافہ کیا گیا۔
تاہم اس تیزی سے ہونے والے اضافے کے ایک دن بعد وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو اعلان کیا کہ حکومت ایک ماہ کے لیے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کرے گی۔