کاروبار اور معیشت

پٹرولیم لیوی میں کٹوتی، بجٹ ہدف پر نظرثانی کا امکان

پٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے بعد کیا گیا، ذرائع
شائع April 4, 2026 اپ ڈیٹ April 4, 2026 12:03pm

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی شرح میں ایک ماہ کے لیے 80 روپے فی لٹر کمی کے فیصلے کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقررہ بجٹ لیوی ہدف پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لٹر کی بڑی کمی کا اعلان کیا جس کے بعد لیوی کی شرح 160.61 روپے سے کم ہو کر 80.61 روپے فی لٹر رہ گئی، اس فیصلے کا اطلاق 4 اپریل 2026 سے ہوچکا ہے۔

اس رعایت کے نتیجے میں پٹرول کی قیمت 458.41 روپے سے گر کر 378.41 روپے فی لٹر پر آگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے پر برقرار رکھی گئی۔

جمعرات کو حکومت پہلے ہی ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد 55.24 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی کو ختم کرچکی تھی جب کہ اسی تناسب سے پٹرول پر لیوی کی شرح میں اضافہ کرکے اسے ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے تاکہ قیمتوں کو کم رکھا جا سکے کیونکہ ڈیزل زراعت اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

رواں مالی سال کے لیے فنانس بل 26-2025 کے ذریعے پٹرولیم لیوی کی حد پر سے کیپ ختم کر کے 1.468 ٹریلین روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ پہلے چھ ماہ کے دوران حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی مد میں 82 ارب روپے جمع کیے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اس حالیہ کمی کا اعلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026