کاروبار اور معیشت

غذائی ترسیل کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے تجارتی و ماحولیات میں ہم آہنگی پر زور

  • وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور رومینہ خورشید عالم کے درمیان ملاقات
شائع April 4, 2026 اپ ڈیٹ April 4, 2026 11:55am

پاکستان بڑھتے غذائی عدم تحفظ، سستی خوراک کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے تعطل پر قابو پانے کیلئے اپنی تجارتی اور ماحولیاتی پالیسیوں کو یکجا کرنے کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔ یہ اقدامات ایک زیادہ لچکدار اور پائیدار فوڈ سپلائی چین (غذائی ترسیل کے نظام) کی تشکیل کا حصہ ہیں۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور رومینہ خورشید عالم کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جنہوں نے حال ہی میں وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ اجلاس میں پاکستان کے فوڈ چین سیکٹر کی نمائندگی کرنے والا ایک وفد بھی شریک تھا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کا محور پاکستان کی تجارتی اور ماحولیاتی پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا تاکہ ابھرتے ہوئے عالمی اور ملکی چیلنجز کے تناظر میں لچکدار، فعال اور پائیدار فوڈ سپلائی چین (غذائی ترسیل کے نظام) کو یقینی بنایا جاسکے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ملک میں خوراک کی دستیابی اور اس تک رسائی کی صورتحال نسبتاً مستحکم ہے، تاہم قیمتوں کی سکت اور سپلائی چین کی کارکردگی پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وفد نے ڈیری اور فوڈ سیکٹرز جیسی ضروری صنعتوں میں تعطل کو کم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا جو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور لاجسٹک کی خرابیوں کے باعث شدید متاثر ہوتی ہیں۔

جام کمال خان نے معاشی سرگرمیوں، بالخصوص اہم شعبوں میں تسلسل برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا جبکہ توانائی کے بہتر استعمال اور لاجسٹکس مینجمنٹ (نقل و حمل کے نظام) میں بہتری لانے پر زور دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تجارت میں پائیدار ترقی کا دارومدار مقامی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر ہے۔

رومینہ خورشید عالم نے غذائی نظاموں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ طویل مدتی غذائی تحفظ کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر، وسائل کا مؤثر استعمال اور ضیاع میں کمی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صنعتوں میں طرزِ عمل میں تبدیلی، توانائی کی بچت اور ماحول دوست طریقوں کی حوصلہ افزائی پر حکومت کی توجہ کو بھی اجاگر کیا۔

وفد نے ایندھن کے استعمال کے رجحانات، ٹرانسپورٹ نظام کی خامیاں اور مال برداری کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس میں ٹرکوں کی گنجائش کے بہتر استعمال اور ریلوے نیٹ ورک پر زیادہ انحصار کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پالیسی اقدامات کا محور پابندیوں کے بجائے کارکردگی میں بہتری ہونا چاہیے، تاکہ معاشی رفتار برقرار رہے۔

متبادل سفری حل ، ڈیجیٹل سپلائی چین مینجمنٹ اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جاسکے۔

اجلاس کا اختتام تجارت اور موسمیاتی اداروں کے درمیان ایک مربوط فریم ورک تیار کرنے کے اتفاقِ رائے پر ہوا، جس کا مقصد پاکستان کے غذائی نظام کو مضبوط بنانا، صنعتوں کے تسلسل کو سہارا دینا اور پائیدار معاشی ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026