بیرک نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ریکو ڈک منصوبے کی رفتار سست کر دی
- ریکو ڈِک منصوبے کی صورتحال پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بیرک نے کہا کہ وہ اس منصوبے کی طویل المدتی قدر پر اب بھی یقین رکھتی ہے۔
بیرک مائننگ کارپوریشن، جو ایک عالمی سطح کی کان کنی، ایکسپلوریشن اور ڈویلپمنٹ کمپنی ہے، نے پاکستان میں اپنے بڑے ریکو ڈِک تانبہ اور سونے کے منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں کو سست کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اس فیصلے کی وجہ خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور خطرات میں اضافے کو قرار دیا ہے، تاہم اس نے منصوبے سے اپنی طویل المدتی وابستگی کا اعادہ بھی کیا ہے۔
ریکو ڈِک منصوبے کی صورتحال پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بیرک نے کہا کہ وہ اس منصوبے کی طویل المدتی قدر پر اب بھی یقین رکھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق ابتدائی جائزے کے نتائج اور پاکستان و خطے میں سیکیورٹی صورتحال میں مزید بگاڑ کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کم کی جائے اور 2027 کے وسط تک منصوبے کے جائزے کا عمل جاری رکھا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ مسلسل جائزہ کمپنی کو سیکیورٹی صورتحال، سرمایہ جاتی ضروریات، فنانسنگ، منصوبے کے دائرہ کار اور ٹائم لائن کا جامع انداز میں جائزہ لینے میں مدد دے گا۔
تاہم ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کم ہونے کے باوجود منصوبہ فعال انتظام کے تحت رہے گا، جبکہ سرمایہ کاری کے اخراجات محدود کر دیے جائیں گے۔
بیرک نے کہا کہ ریکو ڈِک کے پہلے مرحلے کی ترقی اسی بنیاد پر منظور کی گئی تھی۔ کمپنی نے مقامی کمیونٹی میں اپنے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سماجی اور کمیونٹی پروگراموں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔
کمپنی کے مطابق امکان ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت اور ٹائم لائن میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل پہلے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 5.6 سے 6 ارب ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے کا تخمینہ 3.3 سے 3.6 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، اور پہلی پیداوار 2028 کے آخر تک متوقع تھی۔
بیرک نے کہا کہ وہ سیکیورٹی صورتحال پر قریبی نظر رکھے گی اور اپنے مشترکہ منصوبے کے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی، اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد مزید اپ ڈیٹ فراہم کرے گی۔
گزشتہ ماہ بیرک کے سی ای او مارک ہِل نے ایک کانفرنس کال میں کہا تھا کہ کمپنی کا بورڈ بلوچستان میں واقع اس سونے اور تانبے کے منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ منصوبہ بیرک کی 50 فیصد، وفاقی ریاستی اداروں کی 25 فیصد اور حکومت بلوچستان کی 25 فیصد ملکیت میں ہے۔