پاکستان

جون 2025 تک بیرونی قرض 6 فیصد اضافے سے 91.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

  • بیرونی قرض مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ معمولی طور پر 0.4 فیصد کمی کے بعد 91.4 ارب ڈالر رہ گیا
شائع March 31, 2026 اپ ڈیٹ March 31, 2026 09:10am

وزارت خزانہ کے جاری کردہ ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ جنوری 2026 کے مطابق جون 2025 کے اختتام تک پاکستان کا بیرونی قرض سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 5 ارب ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ معمولی طور پر 0.4 فیصد کمی کے بعد 91.4 ارب ڈالر رہ گیا۔

اسی دوران مجموعی اندرونی قرض 7,312 ارب روپے اضافے کے بعد 54,472 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیاد پر 16 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 22 فیصد کے مقابلے میں کم رہا۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اندرونی قرض 2 فیصد کم ہو کر 53,424 ارب روپے رہ گیا، جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 1 کھرب روپے قرض کی واپسی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی قرض میں نمایاں اضافہ کثیر الجہتی ترقیاتی شراکت داروں بشمول آئی ایم ایف سے حاصل شدہ قرضوں کے باعث ہوا، جو 8.7 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 4 ارب ڈالر بڑھا۔ اسی طرح کمرشل بینکوں سے 1.6 ارب ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا گیا، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی گارنٹی کے تحت لیا گیا 1 ارب ڈالر کا قرض شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 تک پاکستان کے بیرونی قرض کا 56 فیصد حصہ کثیر الجہتی مالیاتی اداروں پر مشتمل ہے، جبکہ دوطرفہ شراکت داروں بشمول پیرس کلب اور دیگر ممالک کے ڈپازٹس کا حصہ تقریباً 26 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ 7 فیصد قرض بین الاقوامی بانڈز، 8 فیصد کمرشل بینکوں اور 2 فیصد دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا۔ مجموعی عوامی قرض میں بیرونی قرض کا حصہ جون 2024 کے 34 فیصد سے کم ہو کر جون 2025 میں 32 فیصد رہ گیا، جو مقررہ حد 40 فیصد کے اندر ہے، تاہم یہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ سے متاثر رہتا ہے۔

اندرونی قرض کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں مستقل قرض، قلیل مدتی قرض اور غیر مالیاتی قرض شامل ہیں۔ مستقل قرض، جس کی مدت ایک سال سے زائد ہوتی ہے، جون 2025 تک 26 فیصد اضافے سے 41,777 ارب روپے ہو گیا، جس کی بڑی وجہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور سکوک کا زیادہ اجرا ہے۔ قلیل مدتی قرض، جس میں مارکیٹ ٹریژری بلز شامل ہیں، 14.5 فیصد کمی کے بعد 8,756 ارب روپے رہ گیا، جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید کم ہو کر 8,400 ارب روپے ہو گیا۔

غیر مالیاتی قرض، جو نیشنل سیونگز اسکیموں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، 8.7 فیصد اضافے کے بعد 3,021 ارب روپے تک پہنچ گیا اور یہ مجموعی اندرونی قرض کا تقریباً 6 فیصد حصہ بنتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026