پاکستان

پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی سہولت کاری کر رہا ہے، اسحاق ڈار

  • یہ رابطہ کاری پیغامات کے تبادلے کے ذریعے کی جا رہی ہے، وزیر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع میں امن مذاکرات کے حوالے سے میڈیا کے مخصوص حلقوں میں ہونے والی غیر ضروری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطہ کاری جاری ہے۔

ایک بیان میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ واشنگٹن نے تہران کو 15 نکات پر مشتمل ایک ایجنڈا بھیجا ہے، جو اس وقت ایرانی حکام کے زیرِ غور ہے۔

انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ رابطہ کاری براہِ راست مذاکرات کے بجائے صرف پیغامات کے تبادلے کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ علاقائی کشیدگی کے اس ماحول میں پاکستان دونوں فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن کر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اور مصر جیسے برادر ممالک بھی اس سفارتی اقدام کی حمایت کر رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں استحکام لانا ہے۔

اسلام آباد کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن کے فروغ کے لیے مکمل پرعزم ہے اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر علاقوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔