کاروبار اور معیشت

پاور ڈویژن کا صنعتی صارفین کیلئے اختیاری بجلی ٹیرف پر غور

  • وزیر توانائی نے اس تجویز کے حوالے سے متعدد داخلی مشاورتی اور تکنیکی اجلاس منعقد کیے ہیں
شائع March 26, 2026 اپ ڈیٹ March 26, 2026 10:42am

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے خصوصی اقدام کے تحت، پاور ڈویژن صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا ایک نیا اختیاری ٹیرف میکنزم متعارف کروانے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد بجلی کے استعمال میں استعداد کاری بہتر بنانا اور صنعتی شعبے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر توانائی نے اس تجویز کے حوالے سے متعدد داخلی مشاورتی اور تکنیکی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت صنعتی صارفین کو مختلف وقتوں میں بجلی کے استعمال کے حساب سے ملٹی سلیب ٹیرف اختیار کرنے کا اختیار ہوگا، جس سے بجلی کی قیمت حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کی جائے گی۔

تجویز کردہ ٹیرف میں دو اہم اجزا شامل ہوں گے: فکسڈ چارجز اور متغیر انرجی چارجز۔ فکسڈ چارجز زیادہ سے زیادہ ڈیمانڈ انڈیکیٹرز (ایم ڈی آئی) کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے تاکہ صارفین پیک اوور کے دوران بجلی کی کھپت کم کرنے کی کوشش کریں۔ متغیر چارجز حقیقی توانائی کی قیمت کے مطابق طے کیے جائیں گے تاکہ لاگت کے مطابق قیمتیں فراہم کی جا سکیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق یہ ٹیرف ڈھانچہ صنعتی پیداوار اور مسابقت کو بڑھانے کے ساتھ بجلی کی کھپت میں توازن اور بلند ڈیمانڈ میں کمی لائے گا، جس سے گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور اضافی مہنگی پیداواری صلاحیت کی ضرورت محدود ہوگی۔

وزیر توانائی نے ہدایت کی کہ اس تجویز کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے، جس کے لیے صنعتی صارفین، چیمبرز آف کامرس اور تجارتی اداروں سے مشاورت کی جائے گی۔ پہلا مشاورتی اجلاس آن لائن 26 مارچ کو منعقد ہوگا۔

اسی دوران، وزیر توانائی نے نیشنل گرڈ کمپنی کی انڈجینائزیشن پالیسی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی صنعتوں کو 12.673 ارب روپے کے معاہدے دیے گئے ہیں، جس سے درآمدات پر 40 فیصد بچت ہوئی ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ یہ پالیسی مقامی مینوفیکچرنگ، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور معیشتی فوائد فراہم کرنے کے لیے جاری ہے۔

اب تک نو آرڈرز 9 کروڑ روپے مالیت کے جاری کیے گئے اور گیارہ مقامی کمپنیوں کو رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ وزیر توانائی نے کہا کہ مقامی مینوفیکچررز کی بروقت فراہمی سے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر پروجیکٹس تیز ہورہے ہیں اور یہ اقدامات برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026