پاکستان

پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم

  • صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کا بیان اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے
شائع March 24, 2026 اپ ڈیٹ March 24, 2026 10:23pm

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے جامع حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور فخر محسوس کرتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اور ایران اس پر متفق ہوں۔

وزیراعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ ”پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے، تاکہ خطے اور اس سے آگے امن و استحکام قائم ہو۔“

اس پوسٹ میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا بیان اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسِوس کے رپورٹر باراک راویڈ نے پیر کو ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ممالک ممکنہ طور پر اس ہفتے ہی اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

راویڈ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ تجویز کردہ سربراہی اجلاس میں ایک طاقتور امریکی وفد شریک ہوگا، جس میں اسٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے مشیر جیراڈ کوشنر، اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہوں گے، جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور تہران کے دیگر سینئر عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔

فنانشل ٹائمز نے پیر کو رپورٹ کیا کہ پاکستان خود کو اس ثالثی کردار میں آگے لا رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے اتوار کو صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے۔

ایکسِوس کے عالمی امور کے رپورٹر کے مطابق ترکی، مصر اور پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر ابھرے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں یہ ممالک پس پردہ پیغامات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد کے سینئر عہدیداروں نے وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے۔

ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ” ثالثی جاری ہے اور پیش رفت ہو رہی ہے۔ مذاکرات کا مرکز ایک جامع حل ہے: موجودہ تنازع ختم کرنا اور تمام زیر التوا اسٹریٹجک مسائل کو حل کرنا۔ ہم جلد ٹھوس جوابات کی توقع رکھتے ہیں۔“

تناؤ میں کمی کی اہم علامت کے طور پر، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر فوجی حملے کے منصوبے معطل کر دیے ہیں۔ صدر نے مذاکرات میں واضح پیش رفت کو بنیاد قرار دیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک کے حوالے سے۔