پاکستان

پی ٹی آئی کا عمران خان کو شفاء اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

  • علاج میں کسی بھی قسم کی تاخیر عمران خان کی صحت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
شائع March 14, 2026 اپ ڈیٹ March 14, 2026 12:45pm

اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

ایک پریس کانفرنس میں وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے ہمراہ وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے حکومت کی مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان تک ان کے ذاتی معالجین اور اہلخانہ کی رسائی روک دی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے متنبہ کیا کہ علاج میں کسی بھی قسم کی تاخیر عمران خان کی صحت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے اور اس کی براہِ راست ذمہ دار وفاقی حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے ڈاکٹروں اور اہلخانہ تک رسائی دینے سے انکار بنیادی انسانی حقوق اور قانونی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے حکام پرعمران خان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

آفریدی نے کہا کہ پارٹی نے عمران خان کے لیے مناسب طبی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن حکومت نے بارہا ان درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور خان کی رہائی کے لیے ایک عوامی تحریک شروع کرنے کے لیے تیار ہے, اگرچہ رمضان المبارک کے احترام میں سیاسی سرگرمیوں کی رفتار عارضی طور پر کم کر دی گئی ہے، لیکن پارٹی کی تیاریاں اور عزم مکمل طور پر برقرار ہیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے ایک وسیع تر سیاسی کریک ڈاؤن کا ذکر کرتے ہوئے پی ٹی آئی سینیٹرز کی نااہلی اور پارٹی ورکرز پر دباؤ کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جاری ناروا سلوک ان تناؤ کو ہوا دے رہا ہے جنہیں موجودہ انتظامیہ کے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے. انہوں نے خان کے طبی علاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026