پاکستان

بجلی کی پیداوار کے مقامی ذرائع ایل این جی سپلائی میں رکاوٹ کے اثرات کم کرنے میں مددگار، وفاقی وزیر

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ قطر سے مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے خطرہ بن گئی ہے
شائع March 13, 2026 اپ ڈیٹ March 13, 2026 02:00pm

وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے رائٹرز کو بتایا کہ سولر اور ونڈ انرجی، جوہری ری ایکٹرز، کوئلے اور پن بجلی سمیت بجلی کی پیداوار کے مقامی ذرائع پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار نے عالمی سطح پر ایل این جی کی فراہمی میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے ملک کی کمزوری کو کم کردیا ہے۔

وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی مقامی بجلی کی پیداوار پر بڑھتا ہوا انحصار جس میں شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی، جوہری ری ایکٹرز، کوئلہ اور پن بجلی شامل ہیں نے اسے عالمی ایل این جی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرے سے کم متاثر ہونے کے قابل بنایا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ قطر سے مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ قطر امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی پیدا کرنے والا ملک ہے جو پاکستان کی درآمدی ایل این جی کی اکثریت فراہم کرتا ہے، جسے بجلی کی طلب میں اضافے کے دوران بجلی گھر چلانے کے لیے بطورِ ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان مستقل مزاجی کے ساتھ توانائی کے مقامی وسائل پر اپنا انحصار بڑھا رہا ہے اور اب ہماری بجلی کی پیداوار کا تقریباً 74 فیصد مقامی ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2034 تک اس شرح کو 96 فیصد سے اوپر لے جایا جائے۔

یہ اعدادو شمار اس سے پہلے رپورٹ نہیں کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سطح پر آنے والے شمسی توانائی کے انقلاب اور ایٹمی توانائی، پن بجلی اور مقامی کوئلے میں سرمایہ کاری کے سابقہ فیصلوں نے پاکستان کی خود انحصاری بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے بجلی کی قلت کے مسائل کا شکار رہا ہے اور تاریخی طور پر اسے موسمِ گرما میں طلب میں اضافے کے دوران روزانہ گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ملک میں اب کوئلے، ایل این جی اور ایٹمی بجلی گھروں کے اضافے کے بعد بجلی پیدا کرنے کی اضافی صلاحیت موجود ہے، جبکہ طلب میں اضافے کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور چھتوں پر لگنے والے شمسی پینلز کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جو بعض مراکز میں گرڈ کی طلب سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

ملک کے کچھ حصوں میں اب بھی بجلی کی بندش ہوتی ہے، لیکن اس کی وجہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ چوری، لائن لاسز اور مالی مشکلات ہیں۔

بدترین صورتِ حال

قطر نے رواں ماہ کے آغاز میں ایل این جی کی پیداوار روک دی تھی جس کے بعد ایشیائی ممالک جو اس کی کل پیداوار کا 80 فیصد خریدتے ہیں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔

اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان کی بجلی کی مجموعی پیداوار میں ایل این جی کا حصہ اب تقریباً 10 فیصد ہے جو بنیادی طور پر شام کے اوقات میں طلب کو پورا کرنے اور گرڈ کے استحکام کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

سال 2022 کے دوران یوکرین پر روس حملے سے پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے دوران اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ملک طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ پر مجبور ہوگیا تھا۔

اویس لغاری نے کہا کہ اگر ایل این جی کی فراہمی منقطع ہو جائے یا یہ بہت مہنگی بھی ہو جائے، تب بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، صنعت یا زراعت پر اس کے اثرات معمولی ہوں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی فراہمی میں طویل تعطل کی صورت میں موسمِ گرما کے دوران، جب ایئر کنڈیشنرز کے استعمال سے طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے، بجلی کی کچھ کمی ہو سکتی ہے۔

اویس لغاری نے مزید کہا کہ بدترین صورتحال میں اگر ایل این جی کارگو کی آمد کئی مہینوں تک رکی رہی تو پاکستان میں موسمِ گرما کی شاموں میں پیک آور کے دوران ایک سے دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ دیکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی لوڈ شیڈنگ سے کچھ شہری اور دیہی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن صنعت یا زراعت نہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان بیٹری اسٹوریج سسٹم پر کام کررہا ہے تاکہ دن کے وقت کی اضافی شمسی توانائی کو شام کے اوقات میں استعمال کے لیے منتقل کیا جا سکے۔

پاکستان نے مقامی بجلی گھروں اور شمسی توانائی میں اضافے کے باعث گیس کی طلب میں کمی کے پیشِ نظر، اطالوی کمپنی اینی کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت 2026-27 میں موصول ہونے والے ایل این جی کے 21 کارگو منسوخ کردیے ہیں۔

مقامی اور ماحول دوست توانائی

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان سے اب ایسے کسی بھی ذریعے میں سرمایہ کاری کی توقع نہیں کی جا سکتی جو انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اسے خطرے میں ڈال دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے6 سے 8 سالوں کے لیے حکومت کے منصوبوں کا محور مکمل طور پر مقامی اور ماحول دوست توانائی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 55 فیصد اب صاف ذرائع سے حاصل ہورہا ہے جسے حکومت 2034 تک 90 فیصد سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔

وزیرِ توانائی کے مطابق پن بجلی سالانہ تقریباً 40 ٹیرا واٹ آورز بجلی پیدا کرتی ہے جبکہ ایٹمی توانائی سے تقریباً 22 ٹیرا واٹ آورز اور مقامی کوئلے سے تقریباً 12 ٹیرا واٹ آورز بجلی حاصل ہوتی ہے، یہ تمام ذرائع درآمدی ایندھن پر انحصار کیے بغیر پاکستان کی بجلی کی فراہمی کا ایک بڑا حصہ بناتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں چھتوں پر نصب شمسی نظام کی استعداد 20 گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی ہے جس میں ’بیہائنڈ دی میٹر‘ (ذاتی استعمال کی) صلاحیت کا تخمینہ 12 سے 14 گیگا واٹ اور ممکنہ طور پر 18 گیگا واٹ تک ہے، جس نے دن کے وقت گرڈ کی طلب میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمِ گرما میں دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کے ساتھ پن بجلی کی پیداوار بھی بڑھ جاتی ہے جس سے سسٹم میں 7,000 میگا واٹ تک کی اضافی گنجائش پیدا ہوتی ہے اور ایئر کنڈیشنرز کی وجہ سے بجلی کی بڑھی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔